پولیس پرائیویٹ افراد کے ذریعے نذرانے لینے میں مصروف

پولیس پرائیویٹ افراد کے ذریعے نذرانے لینے میں مصروف

آئی جی کے احکامات نظرانداز،تھانوں ،چوکیوں میں غیر متعلقہ افرادپولیس افسروں اور اہلکاروں کیلئے سائلین کی ڈیلنگ بھی کرانے لگے ، قانونی کارروائی کامطالبہ

فیصل آباد(عبدالباسط سے )آئی جی پنجاب کے احکامات کے باوجود تھانوں اور پولیس چوکیوں میں تعینات پولیس افسروں اور ملازمین کی جانب سے اپنے ساتھ پرائیویٹ اور غیر متعلقہ افراد کو رکھنے کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ پرائیویٹ افراد کے ذریعے نذرانے لینے کاسلسلہ جاری ، سائلین سے ڈیلنگ کرانے کے انکشافات بھی سامنے آنے لگے ۔ ذرائع کے مطابق تھانہ جات اور پولیس چوکیوں میں تعینات پولیس افسروں اور ملازمین کی جانب سے اپنے ساتھ سکیورٹی گارڈ ڈرائیور اور ملازم کی آڑ میں پرائیویٹ افراد کو رکھ کر انکے ذریعے مختلف نوعیت کی ڈیلنگ کرنے اور بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آنے اور انکے ذریعے نذرانے وصول کرنے کے پیش نظر آئی جی نے فیصل آباد سمیت پنجاب بھر کے تمام تھانوں اور پولیس چوکیوں میں رضاکاروں اور دیگر پرائیویٹ افراد کو ساتھ رکھنے پر سخت پابندی عائد کر دی تھی لیکن آئی جی کے احکامات کے باوجود بھی فیصل آباد میں تھانہ جات اور پولیس چوکیوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور دیگر افسروں اور ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے ساتھ ڈرائیورز، گن مین اور ذاتی ملازم سمیت دیگر نوعیت کے معاملات کی آڑ میں پرائیویٹ افراد کو اپنے ساتھ رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس افسروں اور ملازمین کی جانب سے ان پرائیویٹ افراد کے ذریعے تھانوں اور پولیس چوکیوں میں آنے والے سائلین سے انکے کام کو انجام دینے کے عوض مبینہ طور پر نا صرف نذرانے وصول کئے جاتے ہیں بلکہ مختلف نوعیت کی ڈیلنگ کیلئے بھی انہیں پرائیویٹ افراد کا سہارا لئے جانے کے انکشافات بھی آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع بھر کے تھانہ جات اور چوکیوں میں تعینات افسروں اور ملازمین کیساتھ موجود پرائیویٹ افراد سے متعلق سکیورٹی برانچ اور دیگر خفیہ برانچوں کی جانب سے متعدد بار حکام کو اگاہ بھی کیا جا چکا ہے لیکن حکام کی جانب سے بھی اقدامات اٹھانے میں مبینہ طور پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ تھانوں اور چوکیوں میں رکھے گئے پرائیویٹ افراد کی وجہ سے پولیس کی خفیہ کارروائیوں اور اہم دستاویزات لیک ہونے کے خدشات بھی منڈلاتے رہتے ہیں اور بعض اوقات انہیں پرائیویٹ افراد کی جانب سے مخبری کرنے پرجرائم پیشہ عناصر پولیس کی پہنچ سے دور نکل جاتے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے تھانوں اورچوکیوں میں رکھے گئے پرائیویٹ افراد اور انہیں رکھنے والے افسروں ا ور ملازمین کیخلاف محکمانہ اور قانونی کارروائیاں کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کامطالبہ کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں