7 ہزار دل کے مریض بائی پاس آپریشن کے منتظر

 7 ہزار دل کے مریض بائی پاس آپریشن کے منتظر

فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں غریب اور امیر مریضوں کے درمیان تفریق ، مفت آپریشن کیلئے آ نے والوں کو ڈیڑھ سے دو سال تک کا وقت سے دیا جاتاہے

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (ایف آئی سی) میں مبینہ طور پر امراضِ قلب کے تقریباً 7 ہزار مریض بائی پاس آپریشن کے انتظار میں زندگی اور موت کی کشمکش کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق غریب اور امیر مریضوں کے درمیان تفریق کے باعث سرکاری ایس او پیز کے تحت فری آپریشن کے لیے مریضوں کو ڈیڑھ سے دو سال تک کا وقت دیا جا رہا ہے ۔حکومت کی جانب سے مفت علاج کی تشہیر سے متاثر ہو کر ہزاروں مریض ایف آئی سی کا رخ تو کر رہے ہیں، تاہم بائی پاس آپریشن کے ذریعے زندگی بچانے کی امید میں انہیں طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صاحبِ حیثیت مریضوں کے مختلف کیٹگریز میں 5 سے 7 لاکھ روپے فیس کے عوض چند ہی دنوں میں آپریشن کر دئیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس صورتحال کی بڑی وجوہات میں سرجن ڈاکٹروں کی کمی اور دستیاب بعض ڈاکٹرز کی فری آپریشنز میں مبینہ عدم دلچسپی شامل ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ اجازت سے بعض سرجن دن کے پچھلے اوقات میں اسی ہسپتال میں نجی حیثیت سے بھاری فیس لے کر مریضوں کو چیک کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مجموعی طور پر 5 آپریشن تھیٹر موجود ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر صرف 6 بائی پاس آپریشن کیے جا رہے ہیں، جن میں 2 بچوں کے آپریشن شامل ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں غریب مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ جلد آپریشن کے لیے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔دوسری جانب اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی یا عدم دستیابی کے باعث آؤٹ ڈور میں بھی مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، دل کے امراض کے چیک اپ اور علاج کے لیے دن بھر لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

دور دراز علاقوں سے آنے والے متعدد مریض اگلے دن کے انتظار میں ہسپتال کے احاطے میں ہی رات گزارنے پر مجبور ہیں۔اس حوالے سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایف آئی سی ڈاکٹر رانا ندیم کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں موجود 5 آپریشن تھیٹرز میں سے 2 صرف بچوں کے لیے مختص ہیں، اور بچوں کے دل کے آپریشنز کے حوالے سے ایف آئی سی پنجاب بھر میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض بائی پاس آپریشنز کا دورانیہ 8 گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا ہے ، جس کے باعث دیگر مریضوں کے آپریشن میں تاخیر ہو سکتی ہے ۔ڈاکٹر رانا ندیم کے مطابق امراضِ قلب کے تمام مریضوں کے فری علاج اور بائی پاس آپریشنز کے لیے ایس او پیز یکساں ہیں، تاہم بعض مریض فری علاج کی بجائے فیس ادا کر کے فوری آپریشن کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں