وائلڈ لائف ملازم شہریوں کو ہراساں، پیسے بٹورنے لگے
شہری کو5گھنٹے حبس بیجا میں رکھ کر جعلسازی سے 35ہزار ہتھیالئے ،ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر عظیم ظفر ملازمین کی کرپشن چھپانے کیلئے موقف دینے سے گریزاں
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )محکمہ تحفظ جنگلی حیات سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ، وائلڈ لائف ملازمین شہریوں کو ہراساں کرکے جیبیں خالی کروانے لگے ۔ ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر شہری کو حبس بے جا میں رکھ کر 35 ہزار بٹورنے کا معاملہ سامنے آگیا جبکہ ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر عظیم ظفر معاملہ دبانے کی کوشش شروع کردی،تفصیلات کے مطابق وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کا قیام جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے عمل میں لایا گیا تھا مگر اب شہری ہی اس محکمے سے محفوظ نہیں رہے نئے اختیارات اور وسائل ملنے کے بعد محکمے کے ملازمین اختیارات سے تجاوز کرنے لگے۔
ذرائع کے مطابق سینئر وائلڈ لائف رینجر جڑانوالہ اور وائلڈ لائف رینجرز ربنواز، اکرم،معاذ الرحمن،ولایت ،عمر عباس،خالد محمود سمیت خاتون وائلڈ لائف رینجر مقدس فضل نے چک نمبر 72 گ ب کے رہائشی عاصم عباس کو اپنے ڈیرے سے گھر جاتے راستے میں روکا جسکے پاس لائسنس یافتہ 12 بور بندوق موجود تھی جسے بنیاد بنا کر اسکے خلاف مبینہ فرضی کارروائی شروع کردی گئی۔ وہ اپنے شہد کے فارم سے واپس گاؤں آرہا تھا کہ گاؤں کے موڑ پر وائلڈ لائف رینجرز ربنواز، اکرم،معاذ الرحمن،ولایت،عمر عباس،خالد محمود سمیت خاتون وائلڈ لائف رینجر مقدس فضل نے گن پوائنٹ پر روک لیا اسلحہ تان کر ہاتھ اوپر کروالئے ملازمین نے جامہ تلاشی میں اسکا موبائل فون اور دیگر سامان قبضہ میں لے لیا جبکہ لائسنس یافتہ بندوق چھین کر الزام عائد کیا کہ تم شکار کررہے ہو جبکہ سائل کے پاس بندوق کا لائسنس پرمٹ موجود تھا لیکن شکار کیا ہوا کوئی پرندہ یا جانور یا شکار کا دیگر سامان موجود نہیں تھا مگر مذکورہ ملازمین سائل کو وائلڈ لائف دفتر جڑانوالہ لے گئے جہاں چار سے پانچ گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازمین شہری کو ہراساں کرکے پانچ لاکھ روپے طلب کرتے رہے وائلڈ لائف ملازمین نے عاصم عباس کی جیب سے 10 ہزار روپے نکلوا لیے اور اسکی کمر پر پستول رکھ کر اے ٹی ایم مشین تک لے گئے جہاں سے 25 ہزار بذریعہ اے ٹی ایم مشین نکلوا کر عاصم کو غیر قانونی حراست سے رہا کردیا ۔ متاثرہ شہری کی جانب سے درخواست دئیے جانے کے بعد وائلڈ لائف ملازمین نے مبینہ جعلی دستخط اور نشان انگوٹھا لگا کر اقبال جرم کی تحریر بھی بنا لی جبکہ محکمہ کے مرتب کردہ چالان پر تحریر کیا گیا کہ مذکورہ شہری کے پاس کوئی شکار کیا گیا جانور پرندہ یعنی مال مقدمہ موجود نہ تھا۔ اگر عاصم کے پاس شکار کیا گیا کوئی جانور پرندہ یا شکار کا سامان بطور مال مقدمہ موجود نہ تھا تو شہری کو چار سے پانچ گھنٹے حبس بے جا میں رکھ کر 35 ہزار کیوں لیے گئے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر عظیم ظفر ملازمین کی کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کو چھپانے کیلئے موقف دینے سے ہی گریزاں رہے۔