مصالحتی کمیٹیاں غیر فعال، معمولی جھگڑے دشمنیوں میں تبدیل
پولیس تفتیش بھی متاثر ہونے لگی ، مصالحتی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کیاجائے :شہری
فیصل آباد (عبدالباسط سے )گھریلو تنازعات، پراپرٹی معاملات اور میاں بیوی یا دیگر رشتہ داروں کے درمیان چھوٹے جھگڑوں کو موقع پر حل کرنے کے لیے قائم کی گئی مصالحتی کمیٹیاں گزشتہ کئی سالوں سے غیر فعال ہیں، جس کی وجہ سے معمولی جھگڑے بروقت ختم نہیں ہو رہے اور یہ سنگین دشمنیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ پولیس پر درخواستوں اور شکایات کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ، جس سے تفتیشی نظام متاثر ہو رہا ہے ،ذرائع کے مطابق پنجاب کے تمام تھانہ جات میں مصالحتی کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں، جن میں علاقے کے قابل اعتماد افراد شامل تھے۔
جبکہ ان کی مانیٹرنگ ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز، ٹاؤن ایس پیز اور دیگر سینئر افسران کرتے تھے ۔ کمیٹیوں کے لیے الگ کمرے مختص کیے گئے تھے جہاں پنچائتی انداز میں معمولی نوعیت کے مسائل حل کیے جاتے تھے ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس حکام سخت نگرانی میں مصالحتی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کریں تاکہ معمولی جھگڑوں کو بروقت ختم کیا جا سکے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کریمنل کیسز بھی مؤثر انداز میں منطقی انجام تک پہنچ سکتے ہیں۔