شورکوٹ: ریت و بھسر پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے تشویش

شورکوٹ: ریت و بھسر پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے تشویش

تعمیراتی لاگت میں اضافے کا خدشہ ،اثرات عام شہریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں

شورکوٹ (نمائندہ دنیا )محکمہ معدنیات جھنگ نے ریت اور بھسر پر نئے ٹیکسوں کے باضابطہ نفاذ کا اعلان کر دیا ہے ، جس کے بعد مقامی تعمیراتی شعبے اور ٹرانسپورٹرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق، ریت کے کھڈوں پر فی سینکڑہ ٹیکس 3500 روپے جبکہ بھسر پر 1600 روپے فی سینکڑہ مقرر کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق، ٹھیکیدار حضرات کو مارکیٹ تک ترسیل کے مرحلے پر ریت پر 6500 روپے فی سینکڑہ اور بھسر پر 4200 روپے فی سینکڑہ تک ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد تعمیراتی لاگت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ، جس کے اثرات عام شہریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ طویل عرصے سے ٹھیکیداروں، ریت بھرنے والے ٹریکٹر ٹرالی مالکان اور رکشہ مالکان کے درمیان ٹیکس کی شرح اور وصولی کے طریقہ کار پر تنازعہ جاری تھا، جس کی وجہ سے متعدد بار کشیدگی کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں