محکمہ تعلیم کی سابقہ چیف ایگزیکٹیو اور سینئر افسروں کی طرف سے فنڈز میں خورد برد کا انکشاف

محکمہ تعلیم کی سابقہ چیف ایگزیکٹیو اور سینئر افسروں کی طرف سے فنڈز میں خورد برد کا انکشاف

محکمہ اینٹی کرپشن حکام کو بھجوائی جانے والی ایک سورس رپورٹ میں ایجوکیشن افسروں کی جانب سے بدعنوانیوں کا پردہ فاش،اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے کوئی کاروائی تا حال سامنے نہیں آ سکی

فیصل آباد(نیوز رپورٹر) محکمہ تعلیم کی سابقہ چیف ایگزیکٹو افسر سمیت دیگر سینئر افسروں کی طرف سے مجموعی طور پہ 1کروڑ 31 لاکھ سے زائد رقم کے سرکاری فنڈز میں سے مبینہ طور پر رقم خورد برد کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے ،محکمہ اینٹی کرپشن حکام کو بھجوائی جانے والی ایک سورس میں ایجوکیشن افسروں کی جانب سے بدعنوانیوں کا پردہ فاش کردیا گیا ، سورس رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات کے مطابق سابقہ چیف ایگزیکٹو افسر سمیت خاتون ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کی جانب سے بڑے پیمانہ پر سرکاری خزانہ سے رقم خرد برد کی گئی ہے جس دوران سی ای او کے حکم پر 63لاکھ 81 2ہزار 4سو روپے جبکہ ڈی ای او کی طرف سے 28لاکھ 17ہزار 7سو 1روپے کے فنڈز نکلوائے اور مختلف مخصوص اشیا خریدنے کے بعد بقیہ خطیر رقم خرد برد کر لی گئی،

اسی طرح ڈی ڈی ای او کے خلاف بھی اینٹی کرپشن کی سورس رپورٹ میں انھیں 39 لاکھ 56 ہزار 7 سو 56 روپے کی رقم میں بد عنوانی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ، مجموعی طور پر تینوں افسران کے حکم پر 1کروڑ 31لاکھ 55 ہزار 661روپے کی خطیر رقم نکلوائی گئی ہے ، ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل یہ معاملہ اینٹی کرپشن کے اعلیٰ حکام کے علم میں لاتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان افسروں نے بڑے پیمانہ پر سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچایا اور جیبیں گرم کی ہیں جن کے خلاف با ضابطہ انکوائری کی جانی ضروری ہے تاہم اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے کوئی کاروائی تا حال سامنے نہیں آ سکی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں