مہنگائی بے قابو، سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں واضح فرق

 مہنگائی بے قابو،  سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں واضح فرق

پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ،قیمتوں پر مؤثر کنٹرول یقینی بنا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے :شہری

فیصل آباد (سٹی رپورٹر) ماہِ مقدس کے آغاز کے ساتھ ہی سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو پر لگ گئے ۔ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے قیمتوں کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے بجائے مبینہ طور پر صرف ریٹ لسٹیں جاری کرکے خاموشی اختیار کر لی گئی ہے ۔ دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ کے برعکس من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں کے لیے سحر و افطار کا انتظام کرنا دشوار ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے حقیقی معنوں میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے صرف کاغذی کارروائی تک محدود اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

رمضان المبارک سے ایک ہفتہ قبل اور موجودہ دنوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق آلو 20 روپے فی کلو مقرر ہے ، جبکہ مارکیٹ میں 30 سے 40 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے ۔ پیاز کا سرکاری نرخ 50 روپے ہے ، مگر بازار میں 70 سے 80 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے ۔ گوبھی کی سرکاری قیمت 30 روپے جبکہ مارکیٹ میں 60 روپے فی کلو ہے ۔ ٹینڈا 65 روپے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 120 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے ، جبکہ شملہ مرچ 140 روپے کی بجائے 220 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے ۔پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق موجود ہے۔

امرود کا سرکاری ریٹ 120 روپے مقرر ہے ، لیکن مارکیٹ میں 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے ۔ انار کی سرکاری قیمت 590 روپے ہے جبکہ مارکیٹ میں 800 روپے سے تجاوز کر چکی ہے ۔ خربوزہ 170 روپے کے بجائے 300 روپے فی کلو سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے ، جبکہ اسٹرابیری کی سرکاری قیمت 450 روپے مقرر ہے اور مارکیٹ میں 1100 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے ۔دیگر سبزیوں اور اشیا خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ عملی اقدامات کے بجائے محض رسمی کارروائیوں پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔ قیمتوں پر مؤثر کنٹرول یقینی بنا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں