بچوں سے مشقت کی روک تھام کمیٹیاں غیر فعال

بچوں  سے  مشقت  کی  روک  تھام  کمیٹیاں  غیر فعال

رمضان المبارک میں بھی فیکٹریوں ‘کارخانوں‘دکانوں‘بھٹہ خشت اورگھروں میں بچوں سے مشقت جاری ‘حکام کی عدم توجہ ،کسی مالک پر مقدمہ درج نہ ہو سکا

گوجرانوالہ(سٹی رپورٹر)چائلڈ لیبر کی روک تھام کیلئے قائم مختلف محکموں کے افسر وں پر مشتمل ضلعی ٹاسک فورس کمیٹیاں غیر فعال ، رمضان المبارک میں بھی فیکٹریوں ،کارخانوں ،دکانوں،بھٹہ خشت اورگھروں میں بچوں سے مشقت کر انے کا سلسلہ جاری، چلڈرن ایکٹ 2016 پر عمل درآمد ہوسکا اورنہ ہی کسی مالک کے خلاف مقدمات کا اندراج کیاجاسکا۔گزشتہ سال پنجاب حکومت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے چلڈرن ایکٹ2016پر سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ کیا تھا جس کیلئے لیبر انسپکٹرز،اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لیبر، ڈپٹی ڈائریکٹرز لیبر،ڈائریکٹر لیبر،اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ایس پیز،ڈی پی اوز پر مشتمل ضلعی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔لیبر انسپکٹر،اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز تحصیل کی سطح،اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لیبر،پولیس افسر کارروائی کرنے کے مجاز ہوں گے جبکہ سکول اوقات میں بچوں سے مشقت لینے پر والد کیخلاف بھی مقدمہ کا اندراج ہو سکے گامگرافسر وں کی عدم توجہی کے باعث چائلڈ لیبر قوانین پرعمل درآمد نہ ہوسکا اور کمیٹیاں بھی غیر فعال پڑی ہیں،15سال سے کم عمر کے بچوں سے کام لینا اور18سال سے کم عمر کے بچوں سے سکول اوقات میں کام لیناجرم قرار دیاتھا مگر افسر وں کی غفلت اورعدم توجہی کے باعث چائلڈ لیبر کا سلسلہ جاری ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں