مجوزہ انفراسٹرکچر سیس کو فوری واپس لیا جائے ،احمد افضل

 مجوزہ انفراسٹرکچر سیس کو فوری واپس لیا جائے ،احمد افضل

ٹیکس یا چارجز نفاذ سے قبل صنعتی شعبہ کے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے

فیصل آباد(نیوز رپورٹر)پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نارتھ زون کے سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے پنجاب میں مجوزہ 0.9 فیصد انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نفاذ کی سختی سے مخالفت کرتے کہا ہے کہ ایسے نئے محصولات سے کاروبار کرنے کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا اور پاکستان کے برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر کی عالمی منڈیوں میں مسابقت متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر، بالخصوص ہوزری اور نٹ ویئر ایکسپورٹرز جو فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر صنعتی مراکز میں کام کر رہے ہیں، پہلے ہی شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مسائل میں توانائی کے زیادہ نرخ، خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بڑھتے ہوئے ٹیکسز شامل ہیں۔ ایسے حالات میں مزید انفراسٹرکچر سیس عائد کرنا برآمد کنندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا جو پہلے ہی عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومت نئے محصولات عائد کرنے کی بجائے برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرے اور پیداواری لاگت میں کمی لانے کیلئے اقدامات کرے تاکہ برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے فوری واپس لیا جائے کیونکہ اس سے برآمدات کی ترقی متاثر ہوگی اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ سکتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کسی بھی نئے ٹیکس یا چارجز کے نفاذ سے قبل صنعتی شعبے کے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے تاکہ برآمدی صنعت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے ۔حکومت کو ایسی پالیسیوں کو فروغ دینا چاہیے جو صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکسٹائل صنعت کے پائیدار مستقبل کو یقینی بنائیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں