محکمہ ایکسائز میںافسروں ، ٹاؤٹ مافیا کی ملی بھگت ، شہریوں سے بھاری نذرانے وصول
ٹاؤٹ مافیا کادفتر کے اندر اور باہر راج ،پراپرٹی ،ٹوکن ، پروفیشنل ، موٹر وہیکل ٹیکس سمیت دیگر برانچوں میں آنیوالے سائلین کی درخواستوں پراعتراضات لگا کر لوٹا جارہا،کارروائی کامطالبہ
فیصل آباد(عبدالباسط سے )محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسروں اور ملازمین کی مبینہ غفلت اور ملی بھگت سے پرائیویٹ افراد اور ٹاؤٹ مافیا نے دفتر کے اندر اور باہر مستقل پنجے جمالئے ۔ پراپرٹی ٹیکس، موٹر وہیکل، ٹوکن ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس سمیت دیگر برانچوں میں مختلف کام کے سلسلے میں آنے والے سائلین کی درخواستوں پر اعتراضات لگا کر انہیں ٹاؤٹ مافیا کا سہارا لینے پر مجبور کیا جانے لگا۔ افسروں کی جانب سے اعتراض لگا کر مسترد کئے گئے کیسز کو ٹاؤٹ مافیا کے ذریعے بھاری نذرانے وصول کرتے ہوئے مبینہ طور پر بغیر کسی اعتراض کے حل کرنے کے انکشافات بھی سامنے آنے لگے۔ ٹاؤٹ مافیا اور پرائیویٹ افراد کے ذریعے اکٹھی کی گئی رقوم کی اوپر سے نیچے تک عہدوں کے حساب سے تقسیم ہونے سے مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیاں بھی نہیں کی جاتیں۔
ذرائع کے مطابق فیصل آباد کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں سائلین جب دفتر کے اندر اور باہر مستقل طور پر بیٹھے پرائیویٹ افراد اور ٹاؤٹ مافیا کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں تو اعتراض شدہ کام کو بغیر کسی اعتراض کے مبینہ ملی بھگت سے افسروں سے حل کروا لیا جاتا ہے ۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ نیو رجسٹریشن سیکشن کے عملے کی جانب سے ڈیوٹی کا وقت ختم ہونے سے قبل ہی وقت ختم ہونے کا جواز بناتے ہوئے شہریوں کے کام روک دیئے جاتے ہیں اور ٹاؤٹ مافیا کے ذریعے رجسٹریشن فیس کے ساتھ اضافی پیسے وصول کرکے کام کر دیئے جاتے ہیں اور بعد ازاں اکٹھی ہونے والی رقوم کو آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق شہریوں کی جانب سے متعدد بار شکایات کے باوجود بھی محکمہ ایکسائز حکام کارروائیاں کرنے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹاؤٹ مافیا اور پرائیویٹ افراد کا سرکاری امور میں عمل دخل ختم کرکے بہتر سروسز فراہم کی جائیں۔