مہنگائی پر بیمار مرغیوں کے گوشت کی فروخت میں اضافہ
ناقص ،بیمار مرغیوں کے گوشت کو عام طور پر 3اقسام میں تقسیم کیا جاتا ، فلو، سی پی اور این ڈی گو شت بک رہاجو صحت کیلئے مضر ہے
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بیمار اور مضر صحت مرغیوں کے گوشت کی فروخت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ، جس سے شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ۔ذرائع کے مطابق ناقص اور بیمار مرغیوں کے گوشت کو عام طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ، جنہیں پولٹری کی کاروباری زبان میں فلو، سی پی اور این ڈی کہا جاتا ہے ، اور تینوں اقسام کا گوشت سرعام فروخت ہو رہا ہے ۔فلو سے متاثرہ مرغیوں میں سانس کی بیماری ہوتی ہے ، انکے ناک اور منہ سے پانی نکلتا ہے اور وہ مشکل سے سانس لیتی ہیں۔ ایسی مرغیاں عموماً 72 گھنٹوں کے اندر مر جاتی ہیں، اس لیے فارمرز انہیں کم قیمت پر فوری فروخت کر دیتے ہیں۔
سی پی سے متاثرہ مرغیوں کا نظام ہاضمہ متاثر ہوتا ہے ، وہ خوراک نہیں کھاتیں اور صرف پانی پیتی ہیں۔ ان کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے اور یہ 48 گھنٹوں کے اندر مر جاتی ہیں، جسکے باعث انہیں بھی سستے داموں بیچ دیا جاتا ہے ۔تیسری قسم این ڈی کہلاتی ہے ، جس میں زخمی یا اندرونی چوٹ کا شکار مرغیاں شامل ہوتی ہیں۔ ان مرغیوں کو اٹھانے اور منتقل کرنے کے دوران ٹانگوں یا پروں میں چوٹ لگتی ہے ، جس سے گوشت متاثر ہو جاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق ان متاثرہ مرغیوں کی قیمت عام مرغیوں کے مقابلے میں 40 فیصد تک کم ہوتی ہے ، جس کے باعث بعض قصاب منافع کی خاطر ان کی خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایسے گوشت کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور اس سے مختلف بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص اور مضر صحت گوشت کی فروخت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔