واسا 48 سال بعد بھی صاف پانی فراہمی میں ناکام
صنعتی شہر کاپانی پینے کے قابل نہ رہا،سرکاری سہولت بند ،شہری نجی فلٹریشن پلانٹس یا نہر کنارے بور سے پانی خرید کر پینے پر مجبور ،وزیراعلیٰ سے نوٹس کامطالبہ
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )قیام کے 48 سال بعد بھی واسا فیصل آباد شہر کے سو فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت کی فراہمی میں ناکام ،صنعتی شہر کا زمینی پانی پینے کے قابل نہ رہاجبکہ سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی بند پڑے ہیں،شہری نجی فلٹریشن پلانٹس یا نہر کنارے کیے گئے زمینی بور سے پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں ۔تفصیلات کے مطابق واسا فیصل آباد کے قیام کو 1978 سے 2026 تک 48 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے واسا کو فرنچ واٹر پراجیکٹ کی صورت میں فرانس اور واسا جائیکا پراجیکٹس کی صورت میں جاپان حکومت کا تعاون حاصل ہے غیر ملکی تعاون اور فنڈنگ کے باوجود واسا فیصل آباد کی سو فیصد آبادی تک پینے کا صاف پانی پہنچانے میں ناکام ہے ۔
محتاط اندازے کے مطابق شہری آبادی میں سے 60 سے 65 فیصد آبادی میں ہی واسا کے پینے کے پانی کی سپلائی پہنچی ہے اور 35 سے 40 فیصد آبادی تاحال واسا کی ڈرنکنگ واٹر سپلائی سے محروم ہے جہاں واسا کا پینے کا پانی پہنچتا بھی ہے وہاں بوسیدہ لائنوں پرپینے کے پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہوجاتا ہے ۔ واٹر سپلائی کا پانی کئی بار سیاہ اور بھورے رنگ کا آتا ہے جس سے تعفن اٹھ رہا ہوتا ہے گندے پانی سے متعلق بھی کئی بار رپورٹ کیا جاچکا ہے اسکے باوجود واسا کوالٹی کو بہتر کرنے میں ناکام ہے جس پرواسا واٹر سپلائی سے شہریوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ شہری نہر کنارے کیے جانے والے بور یا نجی واٹر فلٹریشن پلانٹس سے پانی خرید کر پیتے ہیں اور واسا کا بل ادا کرتے ہیں سرکاری طور پر لگائے جانے والے بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں۔
جبکہ ضلعی انتظامیہ نے فیصل آباد میں47 واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے تھے اور 50 سے زائد پلانٹس مخیر حضرات اور نجی فلاحی اداروں کی جانب سے لگائے گئے تھے جن میں سے بیشتر پلانٹس انتظامی غفلت کا شکار ہوکر بند ہوچکے ہیں، انکے نل ٹوٹ چکے ہیں اور ٹینکیاں خالی ،موٹریں اور تار بھی غائب ہیں ۔یہ پلانٹس ایک فلاحی ادارے کے سپرد کیے گئے مگر وہ بھی انہیں نہ چلا سکا اسکے بعد کئی علاقوں کے پلانٹس آب پاک اتھارٹی کے سپرد کردئیے گئے مگر اسکا بھی کچھ خاص فائدہ نہ ہوسکا۔ پی سی آر ڈبلیو آر سمیت دیگر نجی اداربھی کئی بار فیصل آباد کے زمینی پانی کو مضر صحت قرار دے چکے ہیں ، صنعتی شہر ہونے پر انڈسٹریز کا ویسٹ واٹر زمینی پانی کو خراب کرچکا ہے ۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز سے خصوصی نوٹس لیکر فوری صاف پانی فراہمی کامطالبہ کیاہے۔