گرانفروشی بے قابو، شہری مہنگائی کے ہاتھوں پریشان

گرانفروشی بے قابو، شہری مہنگائی کے ہاتھوں پریشان

روزانہ کی بنیاد پر سرکاری ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ، عملدرآ مد نہیں ہو تا ، جڑانوالہ میں صورتحال سب سے زیادہ خراب، عملی اقدامات کئے جائیں :شہری

فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے ) ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گرانفروشوں کے سامنے بے بس دکھائی دینے لگے ، بازاروں میں گرانفروشوں کا راج ہے جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ بے اثر ہوچکی ہے ۔ مصنوعی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔فیصل آباد میں مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ، تاہم اب سبزیوں، پھلوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں من مانے اضافے نے شہریوں کو مزید پریشان کردیا ہے ۔ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سرکاری ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے ، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارروائیوں، جرمانوں اور چالانوں کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن بازاروں میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے ۔شہریوں کے مطابق سرکاری ریٹ لسٹ اور دکانوں پر وصول کی جانے والی قیمتوں میں نمایاں فرق ہے ۔ متعدد دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کررہے ہیں اور عام آدمی کے پاس بحث کرنے یا اشیاء خریدے بغیر واپس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ضلع بھر میں گرانفروشی کی شکایات سامنے آرہی ہیں، تاہم جڑانوالہ میں صورتحال زیادہ خراب دکھائی دے رہی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی مارکیٹوں میں سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نام کی کوئی چیز نہیں، بعض مقامات پر ریٹ لسٹ آویزاں ہی نہیں کی گئی جبکہ جہاں ریٹ لسٹ موجود ہے وہاں بھی بعض دکاندار اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کررہے ہیں۔

شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس روزانہ بازاروں میں کارروائیاں کررہے ہیں تو گرانفروشی ختم کیوں نہیں ہورہی؟ ایک ہی دکاندار بار بار زائد قیمت وصول کرے تو اس کے خلاف مستقل اور مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی اور سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت یقینی کیوں نہیں بنائی جارہی؟شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایک دن میں کتنے چالان کیے گئے یا کتنے جرمانے عائد ہوئے ، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد بازاروں میں صورتحال بہتر ہوئی یا نہیں۔ اگر کارروائی کے اگلے روز بھی وہی دکاندار دوبارہ من مانے دام وصول کررہا ہو تو ایسی کارروائی کا مقصد اور فائدہ کیا ہے ؟ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ صرف سرکاری نرخ مقرر کرکے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتی بلکہ ان نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔ محدود آمدن میں بچوں کی فیس، بجلی کے بل، گھر کا کرایہ اور راشن پورا کرنے کی کوشش کرنے والا غریب آدمی جب بازار کا رخ کرتا ہے تو سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں اس کے بجٹ سے باہر ملتی ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گرانفروشی کی روک تھام کے لیے کاغذی کارروائیوں کے بجائے عملی اور مستقل اقدامات کیے جائیں، سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فروخت یقینی بنائی جائے اور بار بار خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...