ٹیکس انوائس کے بغیر بلنگ، سرکاری خزانے کو نقصان
شہر کے مختلف ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کیفے اور دیگر کاروباری مراکز میں پی آر اے انوائس کے بجائے صارفین کو سادہ یا کمپیوٹرائزڈ پرنٹڈ بل فراہم کئے جانے کی شکایاتبعض کاروباری اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر اصل فروخت سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہ کیے جانے سے ٹیکس چوری کا امکان بھی بڑھ گیا ،خصوصی آڈٹ کا مطالبہ
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) ملک کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کیفے اور دیگر کاروباری مراکز کی جانب سے پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے ) کی مقررہ ٹیکس انوائس کے بغیر بل جاری کیے جانے کا سلسلہ مبینہ طور پر جاری ہے ، جس کے باعث سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ بعض کاروباری اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر اصل فروخت سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہ کیے جانے سے ٹیکس چوری کا امکان بھی سامنے آ رہا ہے ۔شہر کے مختلف ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کیفے اور دیگر کاروباری مراکز میں پی آر اے انوائس کے بجائے صارفین کو سادہ یا کمپیوٹرائزڈ پرنٹڈ بل فراہم کیے جانے کی شکایات ہیں، جن پر مبینہ طور پر باقاعدہ انوائس نمبر درج نہیں ہوتا۔
پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 کے تحت قابل ٹیکس خدمات فراہم کرنے والے رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے مقررہ تفصیلات کے ساتھ ٹیکس انوائس جاری کرنا ضروری ہے ۔قواعد کے مطابق ٹیکس انوائس پر کاروبار کا نام، پتہ، رجسٹریشن نمبر، فراہم کردہ سروس کی تفصیل، ٹیکس سے قبل رقم، الگ سے سیلز ٹیکس اور ٹیکس سمیت مجموعی رقم سمیت دیگر ضروری معلومات درج ہونا لازم ہے ۔ انوائس جاری نہ کرنے یا مقررہ ریکارڈ برقرار نہ رکھنے کی صورت میں قانون کے تحت جرمانے اور دیگر کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق اگر کسی کاروباری ادارے کی روزانہ اصل فروخت لاکھوں روپے ہو اور ریکارڈ میں اس کے مقابلے میں محدود رقم ظاہر کی جائے تو اس سے ٹیکس واجبات میں کمی اور ممکنہ ٹیکس چوری کا معاملہ سامنے آ سکتا ہے۔
فیصل آباد جیسے بڑے صنعتی و تجارتی شہر میں ہزاروں ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کیفے ، شادی ہالز اور دیگر قابل ٹیکس کاروباری مراکز موجود ہیں، اس لیے بڑے پیمانے پر غیر مکمل یا غیر باقاعدہ بلنگ کی صورت میں قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا حجم لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔شہریوں نے پنجاب ریونیو اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے ریسٹورنٹس، ہوٹلز، شاپنگ مالز اور دیگر قابل ٹیکس کاروباروں کا خصوصی آڈٹ کیا جائے ، خفیہ خریداری کے ذریعے انوائس جاری کرنے کے عمل کا عملی جائزہ لیا جائے اور صارفین سے وصول کیے جانے والے ٹیکس، جاری کردہ انوائسز، بینک و ڈیجیٹل ادائیگیوں اور جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا تقابلی جائزہ لیا جائے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ریکارڈ محفوظ نہ رکھنے ، ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی، غلط ریکارڈ مرتب کرنے یا ٹیکس فراڈ کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ مبینہ ٹیکس چوری کے راستے بند اور سرکاری خزانے کو مزید نقصان سے محفوظ بنایا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments