شہر میں منشیات کے عادی افراد کے ٹھکانے ختم نہ ہوسکے
پلوں کے نیچے اورسڑکوں کے کنارے سرعام نشے کا استعمال جاری ، قوانین موجود، مگر عملدرآمد کا فقدان، شہریوں کا منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے ) محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، سوشل ویلفیئر و بیت المال اور ضلعی پولیس کی مبینہ غفلت کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پلوں کے نیچے ، سڑکوں کے کناروں اور سنسان مقامات پر منشیات کے عادی افراد کے مستقل ٹھکانے ختم نہ ہوسکے ، جہاں سرعام منشیات اور نشہ آور ادویات کا استعمال جاری ہے ۔ میڈیکل سٹورز اور مبینہ منشیات کے اڈوں سے نشہ آور اور ممنوعہ ادویات کی دستیابی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا د یئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملک کے تیسرے بڑے شہر میں منشیات اور نشہ آور ادویات کا آسان حصول معاشرے کے مختلف عمر کے افراد کو اس دلدل میں دھکیل رہا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ منشیات فروشوں اور بعض میڈیکل سٹورز مالکان کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے متعلقہ اداروں کی سرگرمیاں سیمینارز، آگاہی مہمات اور کاغذی کارروائی تک محدود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ پلوں کے نیچے اور سڑکوں کے کنارے نوجوان شہریوں کے سامنے منشیات استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ 1997ء کے تحت منشیات رکھنے اور فروخت کرنے والوں کے لیے سزائیں مقرر ہیں، جبکہ قانون کی دفعات 52 اور 53 کے تحت صوبائی حکومت کو منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن، علاج، بحالی اور بحالی مراکز کے قیام کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
اسی طرح ڈرگز ایکٹ 1976ء کے تحت غیر قانونی، غیر رجسٹرڈ یا بغیر لائسنس ادویات کی فروخت قابلِ سزا جرم ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کو محض ایک جگہ سے ہٹانے کے بجائے ان کی نشاندہی، رجسٹریشن اور علاج کرایا جائے ، جبکہ ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر منشیات فروشوں اور سہولت کاروں کے خلاف مقدمات درج کرکے سخت کارروائی کی جائے ۔ شہریوں کے مطابق شہر میں سرعام منشیات کا استعمال اور مبینہ فروخت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments