ضلعی مصالحتی، کمیٹیاں کئی سال سے غیر فعال

ضلعی مصالحتی، کمیٹیاں کئی سال سے غیر فعال

شہری معمولی نوعیت کے تنازعات کے حل اور دیگر چھوٹے مسائل کے لیے بھی دربدر ، پولیس کی دیگر سروسز اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں متاثر ہونے لگیں

فیصل آباد (عبدالباسط سے )لڑائی جھگڑوں، لین دین، رشتہ داری کے تنازعات اور دیگر معمولی نوعیت کے معاملات کو فوری طور پر خوش اسلوبی سے حل کرنے اور معمولی تلخ کلامیوں کو دیرینہ و سنگین دشمنیوں میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے قائم کی گئی ضلعی مصالحتی کمیٹیاں کئی سال گزرنے کے باوجود فعال نہ ہوسکیں، جس کے باعث شہری معمولی نوعیت کے تنازعات کے حل اور دیگر چھوٹے مسائل کے لیے بھی دربدر ہونے لگے ہیں۔مصالحتی کمیٹیوں کی غیر فعالیت کے باعث معمولی نوعیت کی درخواستوں اور شکایات کا بوجھ بھی پولیس پر پڑ رہا ہے ، جس سے مبینہ طور پر پولیس کی دیگر سروسز اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معمولی نوعیت کے معاملات کے فوری حل کے لیے مؤثر فورم نہ ہونے سے چھوٹے تنازعات طول پکڑنے کے ساتھ بعض اوقات سنگین دشمنیوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں تھانہ جات، ٹاؤن ایس پیز اور سرکل ڈی ایس پیز کے دفاتر کی سطح پر مصالحتی کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں، جن میں بااثر، معتبر اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ان کمیٹیوں کی سربراہی متعلقہ ٹاؤن ایس پی، سرکل ڈی ایس پی یا تھانے کے ایس ایچ او کی جانب سے کی جاتی تھی۔

ذرائع کے مطابق تھانوں میں موصول ہونے والی لین دین، رشتہ داری کے معمولی تنازعات، محلے داروں کے درمیان تلخ کلامی، میاں بیوی کے باہمی اختلافات اور دیگر چھوٹے نوعیت کے معاملات سے متعلق درخواستوں کو مقدمات کے اندراج اور کرائم ریکارڈ کا حصہ بنانے کے بجائے مصالحتی کمیٹیوں کے ذریعے حل کروایا جاتا تھا۔ اس طریقہ کار سے شہریوں کے مسائل فوری طور پر حل ہونے کے ساتھ انہیں ریلیف بھی ملتا تھا، جبکہ پولیس پر معمولی نوعیت کی درخواستوں اور شکایات کا بوجھ کم رہتا تھا۔مصالحتی کمیٹیوں کے فعال ہونے کے باعث پولیس اپنے بنیادی فرائض، خصوصاً جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر زیادہ توجہ دے سکتی تھی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ کمیٹیاں غیر فعال ہوتی گئیں اور کئی سال گزرنے کے باوجود انہیں دوبارہ فعال نہیں کیا گیا، نہ ہی ان کے متبادل کوئی مؤثر نظام متعارف کرایا جا سکا۔شہری حلقوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی مصالحتی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کیا جائے یا تھانہ جات کی سطح پر معمولی نوعیت کے تنازعات اور شکایات کے فوری حل کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں، تاکہ شہریوں کو معمولی مسائل کے حل کے لیے طویل انتظار، بار بار تھانوں کے چکر اور غیر ضروری مشکلات سے نجات مل سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...