قصابوں کی من مانی، مٹن، بیف غریب کی پہنچ سے دور

قصابوں کی من مانی، مٹن، بیف غریب کی پہنچ سے دور

ناقص اور مضر صحت گوشت بھی بیچا جا رہا ،محکمہ لائیو سٹاک سے تصویق بھی نہیں کروائی جاتی ،برائلر مرغی کے گوشت کی فروخت میں بھی ہدایات کی خلاف ورزیاں

فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )انتظامی افسران اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی روایتی غفلت کے باعث ڈویژن بھر میں گوشت کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں، قصابوں نے گرانفروشی کے ریکارڈ توڑ دیے ۔ مٹن اور بیف کی قیمتیں شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوگئیں جبکہ قصابوں کے خلاف کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ڈویژن بھر میں بیشتر قصاب مبینہ طور پر ناقص اور مضر صحت گوشت مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ گرانفروشی کے ساتھ ساتھ مضر صحت گوشت کی فروخت بھی سرعام جاری ہے ، تاہم پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے مؤثر کارروائیاں دکھائی نہیں دے رہیں۔

بیشتر قصاب سرکاری سلاٹر ہاؤسز کے بجائے نجی مذبحہ خانوں یا گھروں میں لاغر اور بیمار جانور ذبح کرتے ہیں، جن کا گوشت ویٹرنری ڈاکٹر یا محکمہ لائیو سٹاک کے متعلقہ افسر کی تصدیق کے بغیر مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے ۔مٹن 2300 سے 2500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے ، جبکہ گائے اور بھینس کا گوشت بھی 1200 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے ۔ بغیر ہڈی کے بڑے گوشت کی قیمت 1600 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے ۔ دوسری جانب برائلر مرغی کے گوشت کی فروخت میں بھی ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز کی ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی جاری ہے۔

ایک کلو گوشت کے بجائے 900 گرام گوشت فراہم کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ 29 مئی 2023 کو ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز کی جانب سے جاری مراسلے میں واضح ہدایت کی گئی تھی کہ ایک ہزار گرام سے کم گوشت فروخت کرنے والے قصاب گرانفروشی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے خلاف پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے ، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہوسکا۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ گوشت کی قیمتوں اور معیار کی جانچ کے لیے سرپرائز انسپکشن کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...