فیصل آباد کو وال چاکنگ، غیر قانونی تشہیر سے پاک نہ کیا جاسکا، شہر کا حسن متاثر
میونسپل کارپوریشن ،پی ایچ اے کی غفلت سے شاہراہوں، چوراہوں، گرین بیلٹس ،رہائشی علاقوں میں بینرز، سٹریمرز، پینا فلیکسز، بل بورڈز ،ہورڈنگز کی بھرمار، تشہیر ی مواد ہٹا کرشہرکی خوبصورتی بحال کرنے کامطالبہ
فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)میونسپل کارپوریشن اور پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کی عدم توجہ اور غفلت سے فیصل آباد کو وال چاکنگ اور غیر قانونی تشہیر سے پاک کرنے کے دعوے عملی شکل اختیار نہ کرسکے ، شہر کی اہم شاہراہوں، چوراہوں، گرین بیلٹس اور رہائشی علاقوں میں بینرز، سٹریمرز، پینا فلیکسز، بل بورڈز اور ہورڈنگز بدستور شہری حسن کو متاثر کررہے ہیں جبکہ متعدد مقامات پر دیواروں پر غیر قانونی تحاریر بھی موجود ہیں۔ مختلف سڑکوں کے اطراف اور رہائشی علاقوں کی دیواریں اشتہارات اور تحاریر سے بھری ہوئی ہیں جس سے خوبصورت اور صاف ستھرے شہر کا تصور متاثر ہورہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف شہر کو خوبصورت بنانے کیلئے مختلف منصوبوں اور ہارٹیکلچر سرگرمیوں پر وسائل خرچ کیے جاتے ہیں دوسری طرف گرین بیلٹس اور شاہراہوں کے اطراف پودوں اور درختوں کی بجائے غیر قانونی تشہیری مواد نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ اکثرمقامات پر بینرز اور سٹریمرز نا صرف شہر کی خوبصورتی متاثر کررہے ہیں بلکہ بعض جگہوں پر ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کیلئے بھی مسائل پیدا کررہے ہیں۔ دیواروں پر وال چاکنگ اور غیر اخلاقی تحاریر بھی شہریوں کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تشہیر کیخلاف کارروائی صرف وقتی بنیادوں پر کرنے کی بجائے مستقل نگرانی اور ذمہ دار افراد کیخلاف کارروائی کا نظام وضع کیاجائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ایچ اے کو شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کیلئے ہارٹیکلچر سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دینا چاہیے جبکہ میونسپل کارپوریشن کو وال چاکنگ اور غیر قانونی تشہیر کے خاتمے کیلئے مؤثر نگرانی اور کارروائی یقینی بنانی چاہیے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں اور عوامی مقامات کو غیر قانونی تشہیری مواد سے صاف کیا جائے ، وال چاکنگ کیخلاف مستقل آپریشن کیا جائے اور شہرکی خوبصورتی بحال کی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments