پبلک پوائنٹس، قبرستان منشیات فروشوں کی آماجگاہ
پارکس، گرین بیلٹس کے اطراف منشیات کے عادی افراد کی موجودگی کی شکایات ،طلبا اور خواتین کو بھی منشیات کی ترسیل اور فروخت کے لیے استعمال کیے جانے کا انکشاف
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) شہر کے متعدد پبلک پوائنٹس، قبرستانوں، گرین بیلٹس اور دیگر مقامات پر منشیات فروشوں اور منشیات کے عادی افراد کے مبینہ ڈیرے قائم ہونے سے شہریوں میں تشویش پھیل گئی۔ عوامی مقامات پر منشیات کی فروخت اور استعمال کے بڑھتے واقعات کے باعث نوجوان نسل، بالخصوص طلبہ و طالبات کے منشیات کی لعنت میں مبتلا ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ پولیس کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق شہر میں ایک بار پھر منشیات فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث بااثر عناصر سرگرم ہو گئے ہیں، جن کی جانب سے مبینہ طور پر طلبہ و طالبات اور خواتین کو بھی منشیات کی ترسیل اور فروخت کے لیے استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
باغ جناح سے ملحقہ بلال روڈ گرین بیلٹ، کینال روڈ، سمندری روڈ، یونیورسٹی روڈ پولیس لائن سے ملحقہ گرین بیلٹس، ڈی ٹائپ کالونی، عاصم ٹاؤن، سمن آباد، غلام محمد آباد، بڑا قبرستان، کمال آباد قبرستان، مدینہ ٹاؤن، پیپلز کالونی، بٹالہ کالونی، صدر، رضا آباد، گلبرگ اور ملت ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں قائم قبرستانوں، پارکس، گرین بیلٹس اور فلائی اوورز کے اطراف منشیات کے عادی افراد کی موجودگی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کے کارندے مبینہ طور پر ان مقامات پر منشیات پہنچاتے ہیں، جبکہ باغ جناح روڈ، سوساں روڈ، کینال روڈ اور سمندری روڈ سمیت مختلف علاقوں میں مخصوص اوقات کے دوران نوجوانوں کو مبینہ طور پر منشیات کی فراہمی کی جاتی ہے۔
اس صورتحال سے نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگنے کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر شہریوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق حساس اداروں اور پولیس کی خفیہ برانچوں کی جانب سے منشیات فروشوں اور ان کے مبینہ اڈوں سے متعلق معلومات پر مشتمل رپورٹس اور فہرستیں متعلقہ حکام کو فراہم کی جا چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشی کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کرتے ہوئے عوامی مقامات، تعلیمی اداروں کے اطراف اور رہائشی علاقوں کو منشیات فروشوں سے پاک کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments