کارڈیالوجی ہسپتال میں ایکوٹیسٹ کے مریضوں کو مشکلات
سینئر ڈاکٹرز کی جانب سے مبینہ طور پر ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ روکنے سے مریض پریشان،شام کے اوقات میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے :شہری
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بہتر طبی سہولیات کے حصول کے لیے شام کے اوقات میں ایکو کارڈیو گرافی ٹیسٹ کروانے آنے والے مریض اور ان کے لواحقین مبینہ انتظامی غفلت اور بدانتظامی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے نجی اوقات میں کیے جانے والے ایکوکارڈیوگرافی ٹیسٹ کی فیس میں سے سینئر ڈاکٹرز کو دی جانے والی رقم بند کیے جانے کے بعد سینئر ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر مریضوں کے ایکو ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ روک دیا ہے ۔ اس صورت حال سے نہ صرف مریض پریشان ہیں بلکہ جونیئر ڈاکٹرز کی جانب سے کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتائج پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے باوجود ہسپتال حکام صورت حال بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے ۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد ریجن میں قائم واحد فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی انتظامی غفلت اور مبینہ لاپروائی کے باعث مسائل کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔
مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہسپتال انتظامیہ نے شام کے اوقات میں نجی کلینک کی سہولت شروع کی تھی، جہاں مریض مقررہ فیس ادا کرکے ایکوکارڈیو گرافی سمیت دل کے دیگر ٹیسٹ کروا سکتے تھے اور ماہرین امراض قلب سے معائنہ بھی کرا سکتے تھے ۔ شام کے اوقات میں نجی کلینک کے دوران روزانہ 400 سے زائد ایکو ٹیسٹ کیے جاتے تھے ، جو سینئر ڈاکٹرز انجام دیتے تھے ۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایکوکارڈیوگرافی ٹیسٹ کے لیے وصول کی جانے والی ایک ہزار روپے فیس میں سے 200 روپے سینئر ڈاکٹرز کو ادا کیے جاتے تھے ۔ تاہم بعد ازاں یہ ادائیگیاں بند کر دی گئیں، جس کے بعد سینئر ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر شام کے اوقات میں ایکوگرافی ٹیسٹ کرنے اور مریضوں کا معائنہ کرنے کا سلسلہ روک دیا۔ ہسپتال آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے اوقات میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ اس کے ساتھ دن کے اوقات میں ہونے والی بیرونی مریضوں کی طبی جانچ کے شعبے میں ڈاکٹروں، عملے اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments