جھنگ روڈ پر فیکٹریوں اور سائزنگ بوائلرز کا زہریلا دھواں شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ

جھنگ روڈ پر فیکٹریوں اور سائزنگ بوائلرز کا زہریلا دھواں شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ

سدھار، دھاندرہ، عباس پور، اٹک موڑ اور رنگ روڈ کے اطراف صنعتی فضلہ، پلاسٹک اور ٹائر جلانے کا مبینہ سلسلہ جاری، وزیراعلیٰ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

پینسرہ (نمائندہ دنیا) جھنگ روڈ اور گردونواح میں قائم فیکٹریوں، کارخانوں اور سائزنگ بوائلرز سے اٹھنے والا کالا دھواں شہریوں کی صحت اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے ۔ سدھار، دھاندرہ، عباس پور، اٹک موڑ، رنگ روڈ، ٹھیکری والا تا عباس پور روڈ اور چراہ گاہ کے علاقوں میں قائم صنعتی یونٹس میں مبینہ طور پر گیس اور لکڑی کے بجائے صنعتی فضلہ، کپڑے ، پلاسٹک، پرانے ٹائر اور کوڑا کرکٹ بطور ایندھن جلایا جا رہا ہے ، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور سانس سمیت مختلف بیماریوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔سدھار میں تقریباً ایک درجن جبکہ دھاندرہ میں دو درجن کے قریب بوائلر موجود ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں قائم فیکٹریاں اور کارخانے بھی ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے توجہ کے متقاضی ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک، ٹائر اور صنعتی فضلے کو غیر معیاری طریقے سے جلانے سے خارج ہونے والے مضر مادے فضا کو آلودہ کر سکتے ہیں، پاکستان لیبر قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، صدائے حق ویلفیئر اور عباس ویلفیئر سوسائٹی سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جھنگ روڈ اور ملحقہ آبادیوں میں ماحولیاتی آلودگی کی صورت حال کا فوری نوٹس لیا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیکٹریوں اور سائزنگ بوائلرز کی انسپکشن کرائی جائے ، غیر قانونی ایندھن جلانے کے مرتکب صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں کو زہریلے دھوئیں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...