ایمرسن یونیورسٹی میں پنشن تنازع، انتظامیہ اور اساتذہ آمنے سامنے
چانسلر کے روبرو پانچ اساتذہ کی درخواست پر سماعت،پنشن سکیم سے متعلق قانونی و انتظامی معاملات کی پیروی کیلئے وائس چانسلر ، رجسٹراراور خزانہ دارموجود،تاحال انتظامی و تدریسی فضاء کشیدہ
ملتان (خصوصی رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں پنشن کنٹریبیوٹری فنڈ کا تنازع حل ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرگیا، جس کے باعث جامعہ کی انتظامی اور تدریسی فضا کشیدہ ہونے لگی ہے ۔ پنشن اسکیم سے متعلق قانونی و انتظامی معاملات کی پیروی کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن خالق قریشی، رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق اور خزانہ دار ندیم مشتاق لاہور میں موجود ہیں، جہاں مختلف فورمز پر اس معاملے سے متعلق اہم کارروائیاں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق پنشن اسکیم کے معاملے پر گورنر سیکرٹریٹ لاہور میں گورنر پنجاب و چانسلر کے روبرو پانچ اساتذہ کی درخواست پر سماعت ہوئی، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے باعث معاملے کا حتمی فیصلہ گورنر پنجاب کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اس پیش رفت کے باوجود پنشن اسکیم کے مستقبل سے متعلق صورت حال واضح نہیں ہوسکی۔دوسری جانب خاتون محتسب پنجاب کے فورم پر بھی یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان تنازع اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن خالق قریشی، رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق اور مرزا مراد بیگ کی ذاتی حیثیت میں پیشی متوقع ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ کی جانب سے انتظامیہ کے مبینہ دباؤ اور انتقامی اقدامات سے متعلق شکایات کے باعث کیس کی سماعت ملتان سے لاہور منتقل کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پنشن اسکیم سے متعلق بنیادی قانونی اور انتظامی نکات پر جواب دینے کے بجائے درخواست گزار اساتذہ کے مؤقف پر اعتراضات اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ اساتذہ کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انتظامیہ معاملے کو میرٹ پر حل کرنے اور قانونی سوالات کے واضح جوابات دینے کے بجائے اسے طول دے رہی ہے ، جبکہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے اساتذہ پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق پنشن اسکیم کے معاملے پر مؤقف اختیار کرنے والے اساتذہ کو سماعت سے قبل شوکاز نوٹسز، اظہارِ ناراضی کے خطوط اور ملازمتوں سے فارغ کرنے کی مبینہ دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ پنشن سے متعلق اپنے قانونی اور مالی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا سہارا لیا جارہا ہے ، جس سے جامعہ میں بے چینی اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی ہے ۔پنشن تنازع میں ایک اہم نکتہ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کارروائی بھی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments