فائر سیفٹی کے اقدامات پھر سرد خانے کی نذر

فائر سیفٹی کے اقدامات پھر سرد خانے کی نذر

گل پلازہ سانحے کے بعد کمرشل عمارتوں کی انسپکشن اور ایک ماہ میں حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کے احکامات جاری ہوئے ، مگر ذرائع کے مطابق عملدرآمد ادھورا رہ گیا

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے حادثے کے بعد فیصل آباد میں فائر سیفٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی سرگرمیاں بھی چند روز تک محدود رہیں، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر پسِ پشت چلا گیا۔ اس سے قبل کراچی کے گل پلازہ میں 17 جنوری 2026ء کو ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے بعد بھی انتظامیہ متحرک ہوئی تھی اور کمرشل عمارتوں، شاپنگ مالز، پلازوں، فیکٹریوں اور بلند عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے ، تاہم اس سلسلے میں مستقل مزاجی برقرار نہ رہ سکی۔گل پلازہ آتشزدگی کے بعد 21 جنوری کو سابق کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں ڈویژن بھر کی کمرشل عمارتوں، شاپنگ مالز، پلازوں، فیکٹریوں اور عوامی آمدورفت والی دیگر عمارتوں کی اچانک انسپکشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اجلاس میں سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، محکمہ صنعت اور دیگر متعلقہ اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ پڑتال، عمارتوں کے حفاظتی آڈٹ اور فائر سیفٹی انتظامات کی تکمیل سے متعلق سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔اس کے آٹھ روز بعد، 29 جنوری کو سابق ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اور اجلاس منعقد ہوا،

جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹرز، اسسٹنٹ کمشنرز، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، میونسپل کارپوریشن، ضلع کونسل، فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی، فیسکو اور واسا سمیت دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فائر سیفٹی سے متعلق انتظامات ایک ماہ کے اندر مکمل کروانے کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق مقررہ مدت میں تمام اقدامات مکمل نہیں کیے جا سکے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس معاملے پر انتظامی توجہ بھی کم ہوتی چلی گئی اور فائر سیفٹی انتظامات کی تکمیل کے لیے جاری سرگرمیاں مطلوبہ تسلسل برقرار نہ رکھ سکیں۔

پمز ہسپتال کے حادثے کے بعد ایک بار پھر فائر سیفٹی پر توجہ دی گئی، لیکن یہ سرگرمیاں بھی چند روز بعد ماند پڑ گئیں اور مستقل بنیادوں پر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا معاملہ دوبارہ نظرانداز ہونے لگا۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں متعدد شاپنگ مالز، فیکٹریوں، پلازوں اور بلند عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستوں، فائر الارم سسٹم، آگ بجھانے والے آلات اور دیگر حفاظتی انتظامات کی صورتِ حال تاحال تسلی بخش نہیں۔ ایسے میں کسی بڑے حادثے کے بعد اجلاسوں، انسپکشنز اور ہدایات تک محدود رہنے کے بجائے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے فائر سیفٹی قوانین پر مستقل بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کریں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات کی یاد دہانی عموماً کسی بڑے سانحے کے بعد ہی ہوتی ہے ، لیکن چند روز کی سرگرمیوں کے بعد معاملہ دوبارہ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائر سیفٹی کے لیے کیے جانے والے اعلانات اور فیصلوں پر عملی پیش رفت کی نگرانی کی جائے ، عمارتوں کی انسپکشن کے نتائج سامنے لائے جائیں اور عوامی جانوں کے تحفظ کے لیے مستقل اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...