لالہ موسیٰ میں سلاٹر ہاؤس منصوبہ بدانتظامی کی نذر
قصاب گھروں میں جانور ذبح کرنے لگے ، اراضی پر ڈسپوزل سٹیشن بنانے کی تجویز
لالہ موسیٰ(نمائندہ دنیا )لالہ موسیٰ میں سلاٹر ہاؤس منصوبہ بدانتظامی کی نذر ہو گیا ، 2015 میں 58 لاکھ روپے منصوبے پر صرف کیے گئے مگر آج یہ مقام خستہ حال عمارت کا منظر پیش کر رہا ہے ،سرکاری ریکارڈ کے مطابق سلاٹر ہاؤس کے قیام کیلئے کئی دہائیاں قبل باقاعدہ زمین خریدی گئی تھی تاکہ جانوروں کے ذبح کا صحت بخش نظام قائم کیا جا سکے ، تاہم ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی غفلت کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا ،اطلاعات کے مطابق اب اسی اراضی پر ڈسپوزل سٹیشن بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے جس نے شہری ضروریات کے تعین پر مزید سوالات کھڑے کر د ئیے ،ابتدائی مرحلے سے ہی یہ جگہ مسائل کا شکار رہی کیونکہ نکاسی آب کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا،مذبحہ سے خارج ہونے والے پانی کیلئے چاردیواری کے اندر کنواں کھدوایا گیا جس کے باعث زیرِ زمین پانی کی آلودگی کے خدشات پیدا ہوگئے ، چند برس قبل میونسپل کمیٹی نے قصابوں کو گھروں میں جانور ذبح کرنے کی اجازت دے دی جس کے بعد سلاٹر ہاؤس کو بند کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر احمد شیرگوندل نے رابطے پر یقین دہانی کے با وجود موقف نہیں دیا ۔