بیٹے کے تشدد کا شکار معمر خاتون سے تھانے میں ناروا سلوک
20روز تک بیٹے کیخلاف کارروا ئی نہ ہو نے پر رضیہ صاحب کمرے میں پہنچ گئی ایس ایچ او آ گ بگولہ، انتہائی تضحیک آمیز رویہ ،خاتون کی سی پی او کے دروازے پر دستک
لدھیوالہ وڑائچ(نامہ نگار )وزیر اعلیٰ پنجاب کے شہریوں سے عزت و احترام سے پیش آنے کے احکامات تھانہ لدھیوالہ کے دروازے پر ہی دم توڑ گئے ، انصاف کے لئے آنے والی 80 سالہ خاتون پر ایس ایچ او برس پڑ ے ،مبینہ تضحیک آمیز رویہ گالم گلوچ اور حوالا ت میں بند کرنے کی دھمکی نے پولیس کے رویے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ، خاتون نے سی پی او کو انصاف کیلئے درخواست دے دی۔ بتایا گیا کہ ہے پپناکھ کی رہائشی معمر خاتون رضیہ بی بی نے سی پی او غیاث گل کو دی گئی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ 20 روز قبل اپنے نشئی بیٹے نوید کے خلاف تھانہ لدھیوالہ میں درخواست دی تھی کہ اس نے مجھے اور اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ، اپنی بیوی کا کندھا توڑا اور گھر کا فرنیچر توڑ دیا، کارروائی نہ ہونے پر ب خاتون تھانہ لدھیوالہ میں ایس ایچ او سب انسپکٹر افضل گجر کے کمرے میں چلی گئیں اور لرزتی آواز کے ساتھ ایس ایچ او کے سامنے ہاتھ جوڑ د ئیے کہ میرے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے وہ ہمیں قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ جس پر ایس ایچ او افضل گجر نے طیش میں آ کر رضیہ بی بی کیساتھ انتہائی تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا اور کا نسٹیبل کو حکم دیا کہ اگر مائی تھانے سے نہیں جاتی تو پکڑ حوالات میں بند کر دو جس پر میں گھر واپس آ گئی ۔انہوں نے سی پی او سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔