یونیورسٹی آف حافظ آباد کی تعمیر 2 سال سے بند، طلبہ مایوس
اربوں روپے سے تعمیر ڈھانچہ کھنڈ ر بننے لگا ،اعلیٰ تعلیم کے خواب چکنا چور ،لگتا ہے منصوبہ سیاست کی ندر ہورہا :صدر بار مبشر عزیز گجر ، شہریوں کی سروے میں گفتگو
حافظ آباد(نامہ نگار )یونیورسٹی آف حافظ آباد کی تعمیر برسوں سے تعطل کا شکار، تعمیر شدہ ڈھانچہ کھنڈرات میں تبدیل ہونے لگا،حافظ آباد اورمضافاتی علاقوں کے طلبہ مایوسی کا شکار، اعلیٰ حکام سے یونیورسٹی کی تعمیر جلد مکمل کرکے داخلے اور کلاسز شروع کر نے کا مطالبہ کر دیا ۔ تفصیل کے مطابق تقریباً 6 سال قبل سائنس اینڈ آرٹس یونیورسٹی آف حافظ آباد کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا جس کیلئے 12ارب98کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا جسے بعدازاں کم کرکے 6ارب50کروڑ روپے کر دیا گیا ،فیزون، ٹو اور تھری ایڈمن بلاک کی تعمیر شروع کی گئی جس کا تاحال ڈھانچہ ہی کھڑا کیا گیا ہے جو موسمی حالات کیوجہ سے کافی حد تک ناکارہ ہو چکا اور کوئی فیز مکمل نہیں کیا جاسکا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کیلئے مختص فنڈز کا زیادہ حصہ خرچ ہو چکا لیکن عمارت کا ڈھانچہ دیکھ کر محسوس نہیں ہوتا کہ اتنی رقم خرچ ہو ئی ،یہ دعویٰ دستاویزات تک محدود ہے ، تعمیراتی کام میں تاخیر کی بار بار نشاندہی کے باوجود حالات جوں کے توں ہیں ،2سال سے کام مکمل طور پربندہے۔
منصوبہ شروع ہونے پر نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم کے جو خواب آنکھوں میں سجائے تھے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ چکنا چور ہو رہے ہیں۔ روزنامہ دنیا کے سروے میں ممبر پنجاب بار کونسل شعیب بھٹی ، صدر ڈسٹرکٹ بار مبشر عزیزگجر، سیکرٹری بلال تارڑ ،صدر مرکزی انجمن تاجران شیخ امجد، سیکرٹری ملک یاسر نور، چیئرمین انجمن تحفظ حقوق کاشتکاراں وصدر پرائم لائیرز فورم شاہد ہنجر نے کہا کہ لگتا ہے یونیورسٹی کی تعمیر کا منصوبہ سیاست کی نذر ہورہا ہے ، اگر سیاسی کریڈٹ کے لالچ میں منصوبہ ٹھپ ہو گیا تو یہ طلبہ اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیں گے ،اگر منصوبے کو جلد مکمل نہ کیا گیا تو قومی سرمایہ ضائع ہو جائیگا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ،کمشنر گوجرانوالہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کو جلد مکمل کرکے طلبہ کا دیرینہ خواب پورا کیا جائے ،مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے با عث گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ،اعلیٰ تعلیم کیلئے بچوں کو دور دراز بھیجنا نا ممکن ہو گیا ۔