توہین عدالت کی در خواست پر لیگی رکن اسمبلی 4جون کو طلب
سابق وزیر مملکت بشپ روفن جولیس کی بیوہ کی در خواست پر عمانوئیل اطہر کو نوٹس
گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر) سول جج گوجرانوالہ رانا صبغت منصور خاں نے سابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری جوائس روفن جولیس کی طرف سے دائر کی جانے والی توہین عدالت کی درخواست پر مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی عمانوئیل اطہر جولیس کو 4 جون کو عدالت طلب کرلیا ، سابق وزیر مملکت و رکن قومی اسمبلی بشپ روفن جولیس کی بیوہ جوائس روفن جولیس پنجاب اسمبلی کی رکن اور پارلیمانی سیکرٹری رہ چکی ہیں جبکہ ایم پی اے عمانوئیل اطہر جولیس ان کے شوہر کے بھتیجے ہیں۔مسز جوائس روفن جولیس نے توہین عدالت کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی فرانسس آباد گوجرانوالہ میں ملکیت پراپرٹی ہے جو انہوں نے 1995 میں ذاتی پیسوں سے خریدی تھی جس کا انتقال اور رجسٹری میرے نام پر ہے جس پر عمانوئیل اطہر جولیس وغیرہ ناجائز قابض ہیں جس کیخلاف دعویٰ بے دخلی کی کارروائی کا کیس عدالت میں چل رہا ہے ،
.انہوں نے کہا کہ محکمہ ریونیو نے اس پراپرٹی کی فرد ملکیت میرے نام جاری کی ہے ، دوسری طرف عمانوئیل اطہر جولیس نے اس پراپرٹی پر زبردستی تعمیرات شروع کردیں تو عدالت نے 7دسمبر 2024 کو حکم امتناعی جاری کردیا تھا جسے 10جون 2025کو جاری کئے جانے والے دوسرے حکم نامے میں برقرار رکھا گیا، اپیل کی سماعت کے دوران بھی مخالف فریق نے مبینہ طور پر حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیرات پھر سے شروع کردیں، سائلہ اور دیگر افراد کی مداخلت پر تعمیرات روکنے کا وعدہ کیا گیا لیکن مخالفین عدالت کا واضح حکم ہونے کے باوجود دانستہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جائیداد پر ناجائز تعمیرات کررہے ہیں اور اہل علاقہ میں یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ یہ تعمیرات چرچ کی ہیں اور یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ اس پراپرٹی پر کوئی بھی چرچ رجسٹرڈ نہیں ۔جوائس روفن جولیس نے درخواست میں کہا کہ الزام علیہ عمانوئیل اطہر جولیس نے عدالت کے حکم کو اہمیت نہیں دی اس طرح وہ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ ناجائز تعمیرات فوری طور پر رکوائی جائیں اور توہین عدالت کرنیوالوں کو قانونی کے مطابق سزا دی جائے ، سول جج رانا صبغت منصور نے عمانوئیل اطہر جولیس کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 4جون کو حاضر ہوکر جواب درخواست دائر کریں ورنہ یک طرفہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔