منچر چٹھہ ریلوے کراسنگ صدیوں بعد بھی پھاٹک سے محروم
1887سے آج تک پھاٹک نصب نہ ہو سکا ،اپنی ذمہ داری پر گزرنے کا بورڈ آویزاں
علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر )منچر چٹھہ ریلوے کراسنگ صدیوں بعد بھی پھاٹک سے محروم ، حادثات معمول بن گئے ، متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکیں ۔ انگریز دور حکومت میں 1887کے دوران ریلوے سٹیشن علی پورچٹھہ تعمیر کیا گیا تھا اور اسی عرصے میں ریلوے لائن بچھائی گئی مگر منچر چٹھہ روڈ پر آج تک ریلوے پھاٹک نصب نہ کیا جا سکا ، یہ اہم کراسنگ بیسیوں دیہات کو مرکزی شاہراہ سے ملاتی ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں موٹر سائیکلیں، رکشے ، ٹریکٹر ٹرالیاں، سکول وینیں اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ٹرینیں تیز رفتاری سے گزرتی ہیں جبکہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ محکمہ ریلوے نے محض اپنی ذمہ داری پر کراس کریں کے بورڈ آویزاں کر کے خود کو بری الذمہ قرار دے رکھا ہے مگر زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں۔ ماضی میں یہاں متعدد افسوسناک حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں لیکن متعلقہ ادارے خواب غفلت میں مبتلا ہیں۔ اہل علاقہ کے مطابق منچر چٹھہ ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت حادثے کا خدشہ رہتا ہے ، خصوصاً رات کے اوقات اور دھند کے موسم میں صورتحال خطرناک ہو جاتی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سکول جانیوالے بچوں، خواتین اور بزرگوں کیلئے یہ کراسنگ خوف کی علامت بن چکی ہے ۔ شہریوں نے ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طو رپر پھاٹک نصب کیا جائے تاکہ زندگیاں محفوظ رہ سکیں ۔