سیالکوٹ:گوالوں کی چیکنگ یا لائسنس کا نظام نہ بن سکا
70 فیصد شہری گھروں میں گوالوں سے دودھ لیتے ہیں مگر چیکنگ کا کو ئی نظام نہیں
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا ، ڈسٹرکٹ رپورٹر) پنجاب فوڈ اتھارٹی کی غفلت کے با عث گھروں میں دودھ دینے والے گوالوں کے لائسنس یا چیکنگ کا کوئی نظام نہ بنایا جاسکا، گوالے گھروں میں مضرصحت اور کیمیکل زدہ دودھ دینے لگے ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے دودھ دہی کی بیشتر دکانوں کے لائسنس جاری کئے جاتے ہیں اور کبھی کبھار سیمپل لے کر معیار کو بھی جانچ لیا جاتا ہے مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی غفلت او ر عدم دلچسپی کے باعث گھروں میں دودھ فراہم کرنے والے گوالوں کو چیکنگ یا لائسنس کا کوئی نظام نہیں بنایا جاسکا۔ بیشتر شہریوں کی جانب سے دودھ دکانوں کے بجائے گوالوں سے ہی لیا جاتا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف 30 فیصد شہری دودھ دہی دکانوں سے خریدتے ہیں اور 70 فیصد شہری گھروں میں آنے والے گوالوں سے ہی دودھ لیتے ہیں مگر گوالوں کی چیکنگ کا کوئی نظام ہی موجود نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments