قدیم ثقافتی ورثہ عالمی ماحولیاتی بحران کی زد میں، اورنگزیب کھچی
2022کے تباہ کن سیلابوں سے 750ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا، روم میں خطاب
اسلام آباد، روم (خصوصی رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کا وسیع اور قدیم ثقافتی ورثہ جس میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی قدیم شہری تہذیبیں شامل ہیں، عالمی ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے۔ وہ روم میں انٹرنیشنل سینٹر فار دی اسٹڈی آف پریزرویشن اینڈ ریسٹوریشن آف کلچرل پراپرٹی (آئی سی سی آر اوایم) کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب کلچر -96کلائمیٹ نیکسس دی مسنگ لنک سے کلیدی خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے 2022کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سیلابوں سے 750سے زائد رجسٹرڈ ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام موہنجو دڑو بھی شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے قراقرم ہائی وے کے ساتھ موجود پتھروں پر کھدی قدیم تصاویر اور دیامر بھاشا کے علاقے کے پٹروگلفس خطرے میں ہیں، جبکہ سمندری کٹاؤ اور سطحِ سمندر میں اضافہ، بن بھور اور مکلی کے تاریخی قبرستان کو متاثر کر رہا ہے۔ عالمی یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمتِ عملیوں بشمول نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز اور نیشنل اڈاپٹیشن پلانز میں ایک سٹرٹیجک اثاثے کے طور پر شامل کیا جائے۔ انہوں نے موسمیاتی آفات سے متاثرہ ثقافتی ورثے کیلئے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے تحت ایک مخصوص مالیاتی سیل قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔