مچھروں کی نشوونما تیزی سے شروع ، مقامی حکومتیں اسپرے مہم کے آغاز میں ناکام

 مچھروں کی نشوونما تیزی سے شروع ، مقامی حکومتیں اسپرے  مہم کے آغاز  میں ناکام

مچھردانی کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں 400 سے 800 روپے تک اضافہ ،اسپرے اور لوشن بھی مہنگے ہوگئے ،غریب افراد کے لیے مہنگا علاج کرانا ممکن نہیں،شہریوں کا موقف

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں مختلف اقسام کے مچھروں کی بہتات اور ان کی نشوونما تیزی سے شروع ہوگئی ، تاہم محکمہ صحت سمیت صوبائی اور مقامی حکومتوں نے ڈینگی کے خاتمے کے لیے تاحال اسپرے مہم شروع نہیں کی ہے ۔سندھ بھر میں سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے وارڈز تاحال فعال نہیں ہیں جبکہ نجی اسپتالوں میں ڈینگی کا علاج بہت مہنگا ہے ۔ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں ڈینگی کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر مہم نہ چلائی گئی تو رواں سال سندھ بھر میں ڈینگی کا مرض خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے ۔ ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے افراد میں پلیٹلیٹ کی شدید کمی واقع ہو جاتی ہے جبکہ بخار کے ساتھ نقاہت اور جسم میں شدید درد بھی ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں ڈینگی اور ملیریا کے لیے ٹیسٹ کرانا لازمی ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مشورے کے بغیر غیر ضروری اینٹی بائیوٹک سے اجتناب کریں۔صدر میں مچھر دانی فروخت کرنے والے اسٹور کے مالک زاہد علی نے بتایا کہ مچھردانی کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں 400 سے 800 روپے تک اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ اسپرے اور لوشن کی قیمتوں میں بھی 15 سے 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد اسپرے مہم شروع کی جائے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں غریب افراد کے لیے مہنگا علاج اور ڈینگی کے ٹیسٹ کرانا ممکن نہیں ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہورہی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں