شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے حاصل رضامندی ریپ قرار
غیر فطری فعل کے معاملے میں رضامندی کا جواز بھی موثر دفاع نہیں ،عدالت ملزم عبداللہ کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے حاصل کی گئی رضامندی کو ریپ قرار دیتے ہوئے ملزم عبداللہ کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کردی اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے حاصل کی گئی رضامندی ریپ کے زمرے میں آتی ہے ۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر کسی خاتون کو اس حد تک قائل کیا جائے کہ وہ ملزم کو اپنا آئندہ شوہر تصور کرتے ہوئے تعلقات قائم کرے تو یہ درحقیقت ذہنی دباؤ اور فریب کے زمرے میں آتا ہے ۔ ایسی رضامندی آزادانہ نہیں سمجھی جاسکتی کیونکہ یہ وعدئہ نکاح کے زیرِ اثر حاصل کی جاتی ہے۔
اگر کوئی شخص شادی کا پختہ یقین دلا کر تعلقات قائم کرے اور بعد ازاں انکار کر دے تو یہ رضامندی نہیں بلکہ استحصال ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مدعیہ کو مکان میں بند رکھنا، مسلسل زیادتی کرنا اور شادی سے انکار پر اس کا شور مچانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ عمل زبردستی یا دھوکے کے ذریعے کیا گیا۔ عدالت کے مطابق غیر فطری فعل کے معاملے میں رضامندی کا جواز بھی موثر دفاع نہیں کیونکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 377 کے تحت یہ بذاتِ خود ایک مستقل جرم ہے۔ عدالت نے ملزم عبداللہ کو ٹرائل کورٹ کی سنائی گئی دس سال قیدِ بامشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی۔