ایم ٹیگ ،لمبی قطاریں ،شہری پریشان ،سکیورٹی کیلئے ضروری ،حکام
ڈیٹا مرکزی نظام سے منسلک ہوگا، چند سیکنڈ میں معلومات حاصل کی جا سکیں گیجدید کیمروں سے نمبر پلیٹ سکین کی جا سکتی ہے تو ایم ٹیگ کی کیا ضرورت ،شہری
اسلام آباد (سید قیصر شاہ ) وفاقی دارالحکومت میں موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے اقدام کے باعت تاحال جہاں شہریوں کو گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑرہا ہے ،حکام کے مطابق شہر میں موٹرسائیکلوں کی مکمل ڈیجیٹل رجسٹریشن چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی گاڑی کی فوری شناخت ممکن ہو سکے ، ایم ٹیگ کے ذریعے موٹرسائیکل کا ڈیٹا مرکزی نظام سے منسلک ہوگا، جس سے ناکہ بندی یا چیکنگ کے دوران چند سیکنڈ میں معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ دوسری جانب شہریوں کاموقف ہے کہ جب جدید کیمروں کے ذریعے نمبر پلیٹ سکین کی جا سکتی ہے تو ایم ٹیگ لگانے کی کیا ضرورت ہے ۔ اگر کوئی موٹرسائیکل تاحال ٹرانسفر نہیں ہوئی یا رجسٹریشن میں بے ضابطگی ہے تو متعلقہ مالک کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے نہ کہ تمام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جائے۔
ایم ٹیگ سسٹم مستقبل میں ای چالان، سکیورٹی الرٹس اور ٹریفک مینجمنٹ میں مددگار ثابت ہوگا جبکہ نمبر پلیٹ ٹمپرنگ یا جعلی پلیٹس کی صورت میں ایم ٹیگ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ٹیگ کے لیے تاریخ میں توسیع کی جائے ۔ادھر گزشتہ ایک روز میں 1,107 گاڑیوں پر ایم ٹیگ نصب کیا گیا، جبکہ موٹر سائیکلوں کی تعداد 4,660 رہی۔ اس طرح اب تک ایم ٹیگ سسٹم میں شامل ہونے والی گاڑیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 41 ہزار 957 تک پہنچ گئی ہے ، جبکہ موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ کی مجموعی تعداد 25 ہزار 847 ہو گئی ہے ۔ سہولت کے پیش نظر ایم ٹیگ مراکز کے اوقات کار میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ ترجمان کے مطابق 26 نمبر، پھلگراں، ایف نائن پارک اور فیض آباد کے مراکز 24 گھنٹے مکمل طور پر فعال ہیں ۔