میڈیکل کیلئے مختص 333 نشستیں بحال کی جائیں، طلبہ
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے) فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں کے طلباء کیلئے میڈیکل میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے مختص 333نشستیں بحال کی جائیں تاکہ طلباء اپنی اعلیٰ تعلیم کا حصول یقینی بناسکیں۔۔۔
نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء شوکت اللہ، حزب اللہ وزیر، اسد، اللہ یار، راحت اللہ و دیگر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں (سابق فاٹا) میں اب بھی کوئی میڈیکل کالج نہیں ہے اسی وجہ سے HECکے کوٹا سیٹوں کے علاوہ، فاٹا اور بلوچستان کے طلباء کے پاس میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کا کوئی دوسرا مؤثر ذریعہ یا موقع نہیں ہے، ایچ ای سی ہر سال فاٹا اور بلوچستان کے طلباء کے میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے 333نشستیں مخصوص ہیں جو کہ اس سال کم کرکے 121کر دی گئی ہیں۔، اس سال اب تک سندھ کی جانب سے کوئی نشست فراہم نہیں کی گئی، اسی طرح بلوچستان نے پچھلے سال 24نشستیں مختص کی تھیں لیکن اس سال وہاں سے اب تک کوئی نشست فراہم نہیں کی گئی، پنجاب ہر سال (UHS) 76نشستیں مختص کرتا ہے تاہم UHSنے HECکی اس پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے، UHSنے نشستیں مختص کرتے وقت معیار نظر انداز کیا ہے۔