لاک ڈاؤن ختم نہ کیا تووزیراعظم ہاؤس جانب مارچ:صدر تاجران

لاک ڈاؤن ختم نہ کیا تووزیراعظم ہاؤس جانب مارچ:صدر تاجران

ملک بھر میں لاک ڈاؤن ختم ،اسلام آباد کے تاجروں سے سوتیلی ماں جیساسلوک کیاجارہا1ماہ میں اربوں کانقصان ،لاک ڈاؤن خاتمے کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیاجائے:کاشف چودھری

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری نے واضح کیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کا فوری نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو وفاقی دارالحکومت کے تاجر وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اسلام آباد کیلئے لاک ڈاؤن خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔ اتوار کو جاری بیان کے مطابق انہوں نے حکومت کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کو تاجروں کیلئے اربوں روپے کے معاشی نقصان کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حیران کن اعداد و شمار بھی سامنے رکھ دیئے ،کاشف چودھری نے کہا کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کیا جا چکا ہے مگر اسلام آباد کے تاجروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور بعض نااہل تاجروں کے نام نہاد نمائندوں کی چپقلشوں کی سزا تاجروں کو دی جا رہی ہے جبکہ کاروباری طبقہ پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

وفاق کے تاجروں کا ،کاروبار ایران امریکامذاکرات کے دوران بارہ دن مکمل بند رہا جبکہ اسی طرح ایک مذہبی جماعت کے احتجاج اور ایس سی او سمٹ پر بھی اسلام آباد کو کئی دن بند رکھا گیا تھا۔انہوں نے حیران کن اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کے باعث صرف اسلام آباد کے تاجروں کو 90 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ حکومت کو بھی سیلز ٹیکس کی مد میں 12 ارب اور انکم ٹیکس کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے ،کاشف چودھری نے کہا کہ اسلام آباد کے تاجر سالانہ 232 ارب روپے بجلی کے بلوں پر ٹیکس ادا کرتے ہیں، صرف بلیو ایریا مارکیٹ کے تاجر 39.9 ارب روپے انکم ٹیکس دیتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں