موسمیاتی خطرات،یواین کیساتھ قومی شہری حکمتِ عملی پر مشاورت
اسلام آباد میں اجلاس، ترقیاتی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکتپاکستان کے شہر تیزی سے موسمیاتی خطرات کے مراکز بنتے جا رہے ہیں،عائشہ مورانی
اسلام آباد (دنیا رپورٹ) وفاقی حکومت اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے نے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے اور شہروں کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانے کیلئے پہلی قومی شہری حکمتِ عملی کی تیاری کا مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور اقوامِ متحدہ کے ادارے کے اشتراک سے منعقدہ اجلاس میں وفاقی و صوبائی حکام، آفات سے نمٹنے والے اداروں، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین، ترقیاتی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی عائشہ ہمیرا مورانی نے خبردار کیا کہ پاکستان کے شہر تیزی سے ’’موسمیاتی خطرات کے مراکز‘‘ بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارے شہر شدید گرمی، شہری سیلاب اور پانی کی قلت والے علاقوں میں تبدیل ہو رہے ہیں کیونکہ شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو کبھی شامل ہی نہیں کیا گیا۔
ملک کی 36فیصد سے زائد آبادی پہلے ہی شہری علاقوں میں رہ رہی ہے جبکہ آئندہ دو دہائیوں میں نصف سے زیادہ پاکستانی شہروں میں آباد ہوں گے، جوائنٹ سیکرٹری اعجاز غنی نے سوات سیلاب، اسلام آباد کے ای 11سیکٹر اور رہائشی علاقے کے زیرِگزر راستے میں پیش آنے والے حادثات کو ناقص شہری منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈپٹی ڈائریکٹر و ترجمان سلیم شیخ نے کہا کہ موسمیاتی لحاظ سے محفوظ شہر صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور، مقامی آبادی کی شمولیت اور مسلسل ماحولیاتی آگاہی مہمات سے ہی ممکن ہیں۔