بی آئی ایس پی کو سیاست کی نذر کرنے سے گریز کیا جائے ، روبینہ خالد

بی آئی ایس پی کو سیاست کی نذر کرنے سے گریز کیا جائے ، روبینہ خالد

لوگوں کو بھکاری نہیں بلکہ عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیںسیاسی مقاصد کیلئے غلط معلومات،منفی پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ،چیئرپرسن کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں ، مستحق افراد کام کرتے ہیں مگر محدود آمدن کے باعث ریاستی معاونت کے حقدار ہوتے ہیں ، پروگرام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ، بی آئی ایس پی پر تنقید حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونی چاہیے ، تضحیک آمیز زبان سے گریز کیا ،پروگرام کے بارے میں سیاسی مقاصد کیلئے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے ، ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان اس وقت بی آئی ایس پی سے مستفید ہو رہے ہیں،یہ دنیا کے بڑے اور کامیاب سماجی تحفظ کے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پریس کانفرنس میں کیا ۔

انہوں نے کہاکہ نادرا کے بعد سب سے موثر اور بڑا ڈیٹا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس ہے کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ اسکا ڈیٹا بیس غلط ہے ۔ پروگرام کو بنانے میں 17سال لگے ہیں اور5 سو سے زائد بچوں نے ٹاپ کیا جو اس پروگرام کے تحت پڑھ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل والٹ کا پروگرام ہم نے متعارف کرایا ہے ۔ہم ڈیجیٹل سمز دے رہے ہیں جو 70 لاکھ سے زائد ہیں۔اسکے تحت لوگوں کو پیسے نکلوانے میں آسانی ہوگی اور دور دراز علاقوں میں خود جانے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کے لیے منفی سوچ نقصان دہ ہے ۔ یہ خیرات نہیں ریاست کی جانب سے سماجی پروگرام ہے ۔انہوں نے کہاکہ 2011 کے بعد سے کوئی بھرتی نہیں ہوئی ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں