خاتون افسر کو ہراساں کرنے پر کلرک برطرف، 10 لاکھ روپے جرمانہ

 خاتون افسر کو ہراساں کرنے پر کلرک برطرف، 10 لاکھ روپے جرمانہ

آٹھ لاکھ شکایت کنندہ کو بطور تلافی ادا کیے جائیں گے ، دو لاکھ قومی خزانے میں جمع ہونگے

  اسلام آباد(نامہ نگار)وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے وفاقی سرکاری ادارے میں پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں اپنا حتمی فیصلہ صادر کیاہے ۔ شکایت ایک خاتون ملازمہ نے دائر کی تھی جو اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔ وفاقی محتسب نے شکایت کنندہ کی گواہی کو قابلِ اعتبار اور دیگر شواہد سے مصدقہ قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ ملزم نمبر ایک کا طرزِ عمل \" ایکٹ 2010ء\" کی دفعہ 2(h)(i) کے تحت جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے ۔نتیجتاً ملزم نمبر ایک کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام ثابت پایا گیا، اور مذکورہ قانون کی دفعہ 4(4)(ii)(d) کے تحت انہیں ملازمت سے برطرفی کی سنگین سزا سنائی گئی۔ ان پر10لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، جس میں سے آٹھ لاکھ روپے شکایت کنندہ کو بطور تلافی ادا کیے جائیں گے ، جبکہ دو لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں گے ۔دوسری جانب، یہ الزام کہ ملزم نمبر دو نے ملزم نمبر ایک کو تحفظ فراہم کیا یا سہولت کاری کی، ثابت نہ ہو سکا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...