سی ڈی اے کا377غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن،10کروڑ کی وصولیاں
اقبال ٹاؤن، کھنہ پل،کورال برج ،کورال/گلبرگ گرینز میں غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کی گئی ، 281 کمرشل عمارتیں بھی شامل سوان سے کھنہ پل تک 124تعمیرات کی نشاندہی، مارکنگ اور انہدام کیلئے حد بندی کی جا چکی ،آپریشن بلاامتیاز جاری رہے گا ،سی ڈی اے حکام
اسلام آباد(دنیا رپورٹ ) سی ڈی اے نے اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ کے ساتھ جامع انسدادِ تجاوزات اور بلڈنگ کنٹرول آپریشن جاری رکھا ہوا ہے ۔ یہ کارروائی اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک رکھنے ، منصوبہ بند ترقی کو یقینی بنانے اور متعلقہ قوانین و بلڈنگ ریگولیشنز پر عملدرآمد کے لیے سی ڈی اے کی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے ۔ وزیر برائے داخلہ محسن نقوی کے وژن کے مطابق اسلام آباد ایکسپریس وے کو منظم اور ریگولیٹ کرنے کے لیے بلڈنگ کنٹرول سیکشن (BCS)، سی ڈی اے نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے سیلنگ، ریگولرائزیشن اور انہدام کی جامع کارروائی شروع کی۔اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ کے متعین حصے میں مجموعی طور پر 377نشاندہی شدہ تعمیرات کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے ، جن میں 281کمرشل تعمیرات شامل ہیں۔ متعلقہ بائی لاز کے مطابق لینڈ کنورژن چارجز، غیر مجاز تعمیرات اور سیٹ بیک، FAR اور کورڈ ایریا کی خلاف ورزیوں کی مد میں تقریباً 3 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ گزشتہ انفورسمنٹ مہم کے دوران تقریباً 72 کروڑ روپے وصول کیے گئے ، جاری آپریشن کے دوران اب تک تقریباً 10 کروڑ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 140 سے زائد خلاف ورزی کرنے والی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے ۔ یہ آپریشن سوان دیہاتی سے اقبال ٹاؤن، کھنہ پل اور کورال برج سے ہوتے ہوئے کورال/گلبرگ گرینز تک کے علاقے پر محیط ہے ۔ سوان سے کھنہ پل تک 124 تعمیرات کی نشاندہی، مارکنگ اور انہدام کے لیے حد بندی کی جا چکی ہے ، جبکہ ان کے خلاف انہدام کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے ۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ سیل کیے گئے احاطے اس وقت تک سیل رہیں گے جب تک نشاندہی کی گئی خلاف ورزیوں کا ازالہ اور تمام ضروری قانونی و ریگولرائزیشن کی کارروائیاں مکمل نہیں کر لی جاتیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments