اسلام آباد : بازاروں کی بندش، سٹال ہولڈرز کا روزانہ احتجاج
متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل ہونے تک بازار بحال نہیں کیے جائیں گے :سی ڈی اے
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سکس اور ایچ نائن کے سی ڈی اے ہفتہ وار بازاروں کے سٹال ہولڈرز نے بازاروں کی بندش کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر احتجاج شروع کر دیا ہے ، جبکہ سی ڈی اے نے بازار کھولنے کے لیے سٹال ہولڈرز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حفاظتی اقدامات پر سو فیصد عمل درآمد اور متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل ہونے تک بازار بحال نہیں کیے جائیں گے ۔جی نائن بازار کے سٹال ہولڈرز امجد خان، منظور حسین خان، سلیم اللہ خان و دیگر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی ڈی اے کے فائر سیفٹی ضوابط کے تحت مطلوبہ اقدامات مکمل کر لیے ہیں اور آگ سے بچا ئوکے انتظامات بھی کیے گئے ہیں، اس کے باوجود بازار کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق کاروبار کی مسلسل بندش سے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ دکانداروں کو کرایوں، گھریلو اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ اسٹال ہولڈرز کا موقف ہے کہ وہ روزانہ بازاروں کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم تاحال ان کی درخواست پر مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار بازاروں میں کاروبار کرنے والے بیشتر افراد کا روزگار انہی اسٹالز سے وابستہ ہے اور طویل بندش کے باعث ان کی جمع پونجی بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ سٹال ہولڈرز نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام ان کے کیے گئے حفاظتی اقدامات کا فوری معائنہ کریں اور اگر کسی جگہ مزید انتظامات کی ضرورت ہے تو اس کی واضح نشاندہی کی جائے، تاکہ خامیوں کو دور کرکے بازار دوبارہ کھولے جا سکیں۔ ان کے مطابق حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد ضروری ہے، تاہم تمام تقاضے پورے کرنے والے کاروباری افراد کو غیر معینہ مدت تک کاروبار سے محروم رکھنا ان کے لیے ناقابل برداشت مالی مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔دوسری جانب سی ڈی اے نے ہفتہ وار بازاروں کے اسٹال ہولڈرز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جی سکس اور ایچ نائن کے بازار فی الحال نہیں کھولے جا سکتے۔
دنیا کو دستیاب ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن محمد طارق لطیف کی جانب سے جاری کردہ خط کے مطابق بازاروں کی بندش کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔خط میں کہا گیا ہے کہ بازاروں کی بحالی کے لیے فائر سیفٹی سمیت تمام حفاظتی اقدامات پر سو فیصد عمل درآمد لازمی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ریسکیو حکام اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے این او سیز حاصل کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ خط کے مطابق مطلوبہ حفاظتی انتظامات مکمل ہونے اور متعلقہ اداروں کی منظوری ملنے تک اسٹال ہولڈرز کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سی ڈی اے کے خط میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے اور ان تقاضوں کو پورا کیے بغیر بازاروں کی بحالی ممکن نہیں۔
فیصلے کی نقول چیئرمین سی ڈی اے ، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔اسٹال ہولڈرز کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات مکمل کر چکے ہیں اور متعلقہ ادارے معائنہ کر کے سٹالز کھولنے کی اجزت دیں، انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بازاروں کی بندش سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو بھی مدنظر رکھے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے ، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام مشترکہ طور پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے کر این او سیز کے اجرا اور بازاروں کی بحالی کے لیے واضح ٹائم فریم دیں، تاکہ ان کا روزگار مزید متاثر ہونے سے بچ سکے ۔متاثرہ دکانداروں کے مطابق بازاروں کی طویل بندش صرف انفرادی کاروباروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ان سے وابستہ مزدوروں، سپلائرز اور دیگر چھوٹے کاروباری افراد کی آمدن بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حفاظتی تقاضوں کی تکمیل اور بازاروں کی بحالی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بامعنی رابطہ ہی اس مسئلے کا قابل عمل حل ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments