اندرون سندھ مختلف شہروں سے 9محرم الحرام کے ماتمی جلوس برآمد

اندرون سندھ مختلف شہروں سے 9محرم الحرام کے ماتمی جلوس برآمد

سیکڑوں جلوسوں میں شامل لاکھوں عزاداروں نے زنجیر زنی اور ماتم کیا،فول پروف سیکیورٹی انتظامات ،حساس مقامات پر پولیس و رینجرز کا پہرہ، ریلوے اسٹیشن، بسوں وویگنوں کے اڈوں کی نگرانی بم ڈسپوزل اسکواڈ الرٹ، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی،ٹنڈوآدم میں موٹر سائیکلوں سمیت دیگر گاڑیوں کے چلانے پر پابندی

حیدرآباد،اندرون سندھ (نمائندگان دنیا) شہدائے کربلا کی یاد میں مختلف شہروں میں 9محرم الحرام کے سیکڑوں جلوس نکالے گئے جن میں لاکھوں عزاداروں نے شرکت کرتے ہوئے زنجیر زنی اور سینہ کوبی کی۔ فول پروف سیکورٹی انتظامات ،حساس مقامات پر پولیس و رینجرز کا پہرہ، ریلوے اسٹیشن، بسوں وویگنوں کے اڈوں کی نگرانی ، موٹر سائیکل سواروں ا ورکاروں کی تلاشی،بم ڈسپوزل اسکواڈ الرٹ، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے ۔ٹنڈوآدم میں موٹر سائیکلوں سمیت دیگر گاڑیوں کے چلانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ حیدرآباد سے نمائندے کے مطابق شہدائے کربلا کی یاد میں ہر سال کی طرح امسال بھی 9 محرم الحرام کو حیدرآباد شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں سے ذوالجناح، تعزیوں، جھولوں، دْلدلوں، سیجوں اور علم پاک کے سیکڑوں ماتمی پڑ برآمد ہوئے ۔ اللہ داد چنڈ گوٹھ سے امام علی شاہ بخاری کا پڑ اقبال حسین قریشی کے زیر اہتمام، لجپت روڈ سے امام علی شاہ شیرازی کا پڑ اسد علی شاہ کے زیر اہتمام،مہر علی شاہ کا پڑ غلام مرتضیٰ شاہ کے زیر اہتمام،کھائی روڈ سے خیر شاہ کا پڑ مزمل عرف جانی شاہ کے زیر اہتمام،ولایت علی شاہ کا پڑ سید فرمان علی شاہ اور سید دیدار علی شاہ کے زیر اہتمام،نہال شاہ کا پڑ گل شیر شاہ کے زیر اہتمام،جمال شاہ کے پڑ سے سیج کا ماتمی جلوس قمر علی شیخ کے زیر اہتمام،ٹنڈ و ولی محمد سے کامل شاہ کا پڑ عاشق علی شاہ کے زیر اہتمام،شیدیوں کا پڑ اور دْلدل پوڑھو شیدی کے زیر اہتمام،ٹنڈو ولی محمد سے بڑدیوں کا پڑ نواز علی بڑدی کے زیر اہتمام،ٹنڈ و ٹھوڑو سے مرزا عابد حسین کا پڑ ڈ اکٹر کاظم رضا مرزا کے زیر اہتمام،ٹنڈ و آغا سے مرزا غلام رسول کا پڑ مرزا محمد سلیم کے زیر اہتمام،دادن شاہ کالونی سے بھورو فقیر مرڑانی کا پڑ ان کے ہی زیر اہتمام،امام بارگاہ جاگیرِ علی اکبر ٹنڈ و غفور شاہ جہانیاں قاسم آباد سے تابوت والا پڑ سید خادم حسین شاہ جہانیاں کے زیرِ اہتمام ،ہالا ناکہ سے پہلوان شاہ کا پڑ رضا محمد کے زیر اہتمام، امام بارگاہ حسینی کا پڑ مولا بخش جتوئی کے زیر اہتمام،نارتھ عامل کالونی سے محمد بخش حاجانو کا پڑ بشیر حاجانو کے زیر اہتمام،شیدی محلے کالی موری سے مولا بخش حاجانو کا پڑ ان کے ہی زیر اہتمام،ابو بلاول قمبرانی کا پڑ محمد اسلم قمبرانی کے زیر اہتمام،گوٹھ نور خان چانگ ہالہ ناکہ سے امام بارگاہ الحسینی کا پڑ محمد علی شاہ کے زیر اہتمام،حالی روڈ سے حفیظ احمد انڑ کا پڑ ڈ اکٹر عاشق علی انڑ کے زیر اہتمام،بھٹی گوٹھ ریلوے پھاٹک سے کچھیوں کا پڑ محمد فرخ کھوکھر کے زیر اہتمام،درگاہ چھٹن شاہ بخاری سے امیر شاہ بخاری کا پڑ بہادر علی شاہ اور محمد علی شاہ کے زیر اہتمام، گوٹھ محمد خان باگرانی دیہہ شاہ بخاری متصل جامشورو سے انجمن نگاہِ حسین کا مرکزی قافلہ،ٹنڈو میر غلام حسین لطیف آباد نمبر 9 سے پیروں کا پڑ پیر کاظم شاہ کے زیر اہتمام،سیدوں کا پڑ برکت علی شاہ کے زیراہتمام، سید ولی محمد شاہ المعروف گلزار علی شاہ کا پڑ ابرار علی شاہ کے زیر اہتمام، حسین آباد سے قمبر علی شاہ کا پڑ کامران علی شاہ کے زیر اہتمام،زوار نواب کا پڑ نثار علی بالادی کے زیر اہتمام،حبیب شاہ کا پڑ علی رضا کے زیر اہتمام، عزاخانہ زینبیہ بلدیہ کالونی سے سیج کا ماتمی جلوس فقیر قادر بخش کے زیر اہتمام برآمد ہوا ، دوسری جانب ٹنڈ و میر نور محمد لطیف آباد نمبر 4کے جملہ پڑوں سے سیجوں کے ماتمی پڑ برآمد ہوکر آچر پالاری کے پڑ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے جبکہ درگاہ سخی پیر کے سامنے میمن محلے میں زنجیر زنی کا ماتم ہوا ۔ محرم الحرام کے موقع پر حیدرآباد میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے تحت حساس مقامات پر پولیس و رینجرز نے ناکے لگائے اور گشت کیا ۔ ریلوے اسٹیشن اور بسوں وویگنوں کے اڈوں کی نگرانی کی گئی ، موٹرسائیکل سواروں ا ورکاروں کی تلاشی لی گئی جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ الرٹ رہا ،حیدرآباد میں محرم الحرام کے موقع پر فول پروف حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے قدم گاہ مولاعلیؓ ، محفل حسینی، کربلا دادن شاہ اور خانہ فرہنگ ایران سمیت حیدرآباد سٹی، لطیف آباد اور قاسم آباد کی مختلف امام بارگاہوں پر بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو تعینات کیا ہے جبکہ حساس مقامات پر خاردار تار لگاکر وہاں عام شہریوں کی گزر گاہوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ شہدائے کربلا کی یاد میں ہر سال کی طرح امسال بھی آج حیدرآباد شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں سے ذوالجناح ، تعزیوں، جھولوں،ذوالجناح،سیج اور علم بردار ماتمی برآمد ہونگے جو اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے اْن ہی مقامات پر پہنچ کر اختتام پذیر ہونگے ۔یوم عاشور کے موقع پر آج حیدرآباد ،لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت قرب وجوار سے ماتمی ،ذوالجناح اور تعزیوں کے 300سے زائد چھوٹے بڑے جلوس بر آمد ہو نگے ، اسی طرح 10محرم الحرام کو شہر حیدرآباد ،لطیف آباد اور قاسم آباد کے مختلف علاقوں میں 60سے زائد مجالس منعقد ہونگی جبکہ شہر کے کھاتہ چوک ، کھائی روڈ اور اسلام آباد چوک پر تلواروں کے قدیم جلوس بھی بر آمد ہو نگے ،یوم عاشور کو انجمن حیدری کے زیر انتظام مر کزی ماتمی جلو س صبح آٹھ بجے قد م گا ہ مو لا علی سے بر آمد ہو گا جو اپنے روایتی راستو ں سے گزرتا ہوا مر کزی امام با رگا ہ کر بلا دادن شاہ پہنچ کر اختتا م پذ یر ہو گا، حیدرآباد میں بھی آج 10محرم الحرام کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں جس کے تحت ماتمی جلوسوں میں عزاداران کے داخلے کیلئے واک تھرو گیٹ لگائے گئے ہیں جبکہ یوم عاشور کی شب سے ہی مر کزی جلوس کے راستے قدم گاہ مولیٰ علی سے کربلا دادن شاہ تک سڑکوں اور گلیوں کو خاردار تاریں لگا کر مکمل طور پر ہرقسم کی ٹریفک اور عام لوگوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے اور مرکزی جلوس کی گزرگاہ قدم گاہ مولیٰ علی سے کربلا دادن شاہ تک سڑک کی دونوں جانب آنے والی بلند عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ۔ماتمی ، ذوالجناح اور تعزیئے کے جلوسوں کے راستوں میں جگہ جگہ پولیس کی عارضی چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں ، اس کے علاوہ حساس مقامات پر 50سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جنہیں ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایس پی آفس میں بنائے گئے کنٹرول روم کے ذریعے مانیٹر کیا جارہا ہے ۔لاڑکانہ سے نمائندے کے مطابق کربلا کے میدان میں دین اسلام کی سربلندی کے لیے لازوال قربانی دینے والے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے با وفا ساتھیوں کی یاد میں نویں محرم الحرام کے روز لاڑکانہ ضلع سے 26 لائسنس یافتہ اور روایتی ماتمی جلوس برآمد کیے گئے جبکہ 32 امام بارگاہوں میں مجلس عزا پڑھ کر کربلا کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جن میں سے 19 ماتمی جلوسوں کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ لاڑکانہ شہر کی مرکزی امام بارگاہ جاڑل شاہ سمیت گرد و نواح کی مختلف امام بارگاہوں سے برآمد ہونے والے ماتمی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے شام کے وقت اختتام پذیر ہوئے جن کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کرتے ہوئے 2306 پولیس اہلکاروں اور 300 رینجرز کے جوانوں کو تعینات کیا گیا جبکہ اسکاؤٹس اور شیعہ تنظیموں کے رضاکاروں نے بھی اپنے فرائض انجام دیے اور جامہ تلاشی کے بعد لوگوں کو ماتمی جلوسوں اور مجالس میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں سارا دن لنگر، نیاز اور سبیل کا اہتمام کیا گیا جہاں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے لاڑکانہ ڈویژن کے پانچوں اضلاع لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد اور کشمور کندھ کوٹ میں 8 محرم الحرام سے 10 محرم الحرام تک موبائل سروس بند کردی گئی ہے ۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ جاوید اکبر ریاض نے یوم عاشور کے متعلق سیکیورٹی کے حوالے سے کہا ہے کہ لاڑکانہ ڈویژن میں مجموعی طور پر 1638 مجالس عزا بپا اور 759 ماتمی جلوس برآمد ہونگے جبکہ 130 مجالس عزا کو انتہائی حساس اور 488 کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن کے پانچوں اضلاع لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور کندھ کوٹ اور قمبر شہداد کوٹ میں 90 ماتمی جلوسوں کو انتہائی حساس اور 283 کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔ جن میں سے لاڑکانہ ضلع میں 50، قمبر شہدادکوٹ میں 179، شکارپور ضلع میں 235، جیکب آباد ضلع میں 268 ، ضلع کندھ کوٹ اور کشمور میں 259 مجالس عزا اور ماتمی جلوسوں کو انتہائی حساس اور حساس قرار دیا گیا ہے ۔ لاڑکانہ ڈویژن میں محرم الحرام کے حوالے سے 16591 پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دینگے جبکہ انتہائی حساس اور حساس قرار دیے گئے ماتمی جلوسوں اور مجالس عزا پر رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے اور واک تھرو گیٹس نصب کرکے سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی آفس لاڑکانہ اور پانچوں اضلاع کے ایس ایس پیز آفسز میں کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔ ڈی آئی جی جاوید اکبر ریاض نے کہاہے کہ سندھ بلوچستان کی سرحدی پٹی پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ دوسری طرف لاڑکانہ ضلع میں یوم عاشور کے موقع پر 180 سے زائد نکلنے والے عزاداری و ماتمی جلوسوں میں سے 50 سے زائد ماتمی جلوسوں اور مجالس عزا کو انتہائی حساس قرار دیکر اسکاؤٹس، پولیس و رینجرز کے علاوہ خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے جبکہ امام بارگاہوں میں آنے والے عزاداروں کو جامہ تلاشی کے بعد داخل ہونے دیا جارہا ہے ۔ اسکے علاوہ امام بارگاہ جعفریہ میں ماتم کے ساتھ نقارہ بجا کر عزاداری کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف محرم الحرام میں امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے 5ہزار پولیس اہلکاروں کے ساتھ رینجرز بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔نوڈیرو سے نمائندے کے مطابق نوڈیرو اور اس کے نواحی علاقوں میں محرم الحرم میں سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے صبح سویرے سے موبائل فون سروس کو بند کردیا گیا۔ موبائل فونز کے بند ہوجانے سے صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا اٹھانا پڑا۔ اس کے ساتھ نوڈیرو سٹی میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے سٹی میں قائم تمام دکانداروں کو عاشور کے روز اپنی دکانیں بند رکھنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے ۔شہر میں ہر دکاندار سے دکان کو بند رکھنے کیلئے سادہ کاغذ پر سائن بھی لیا گیا ہے ، اس کے ساتھ نوڈیرو تھانے کی جانب سے جمعے کے روز نکلنے والے جلوس کی سیکیورٹی کیلئے 90کانسٹیبلز، 12ہیڈ کانسٹیبلز اور 7اے ایس آئی رینک کے آفیسران کی ڈیوٹی لگادی گئی ہے ۔ اسکے ساتھ شہباز رینجرز کے 31ونگ لاڑکانہ سے سیکیورٹی کیلئے اہلکار پولیس کی مدد کیلئے نوڈیرو تھانے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ، دوسری جانب عاشور کے روز سیپکو کی جانب سے نوڈیرو میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ معمول کے مطابق جاری ہے جس سے عزاداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔میرپورخاص سے نمائندے کے مطابق نو محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کی مختلف امام بارگاہوں اور عزا خانوں میں مجالس کا سلسلہ جاری ہے ۔ علم و ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر سید محمد علی شاہ زیدی نے مختلف امام بارگاہوں اور عزا خانوں کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ نو محرم الحرام کے سلسلے میں مرکزی امام بارگاہ درگاہ مکھن شاہ میں خانوادہ مولوی نواز ش علی کی جانب سے مجلس عزا منعقد ہوئی جس سے مولوی شجاع نقوی نے خطاب کیا۔ بعدازاں منتی علم حضرت عباس برآمد ہوا،عزا خانہ ہادی شاہ بھان سنگھ آباد کہری پاڑا میں مجلس عزا منعقد ہوئی بعد از مجلس علم و ذوالجناح کا ماتمی جلوس بر آمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اسٹیشن چوک پہنچا،عزا خانہ مولوی نوازش علی نقوی سے علم حضرت عباس علمدار برآمد ہوا اور دونوں ماتمی جلوس اپنے مقررہ راستوں ہوتے ہوئے درگاہ مکھن شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے ۔ درگاہ مکھن شاہ میں انجمن سجادیہ کی جانب سے مجلس عزا منعقد ہوئی جس سے ذاکر اہلبیت مظہر عباس جعفری نے خطاب کیا۔ بعد از مجلس تابوت حضرت عباس علمدار بر آمد ہوا ۔نو محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کی دیگر امام بارگاہوں اور عزا خانوں میں مجالس کا سلسلہ جاری رہا، اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر سید محمد علی شاہ زیدی نے شہر کی مختلف امام بارگاہوں ،عزاخانوں اور ماتمی جلوس کی گزرگاہوں پر کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا اور وہاں موجود منتظمین اور متولیوں سے ملاقات کی۔ دریں اثنا یوم عاشور کے دن نکالے جانے ماتمی اور تعزیوں کے جلوسوں کی مانیٹرنگ کے لیے انتظامیہ کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں اسٹیشن چوک ، مارکیٹ چوک ، پوسٹ آفس چوک ،چاکی پاڑہ اور مدینہ مسجد چوک سمیت 34مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کے مددگار سینٹر 15پر بیس کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پر پولیس کوئیک فورس ہائی الرٹ رہے گی۔ کوئیک فورس کو تمام ضروری سامان کے ساتھ ساتھ ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہے جبکہ واپڈا محکمہ صحت کے ڈاکٹرزاور دیگر عملہ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔شہر میں مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں عام شہریوں اور جلوسوں کے شرکا کوہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔جیکب آباد سے نمائندے کے مطابق جیکب آباد میں محرم الحرام کے سلسلے میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں ، پولیس کی جانب سے سندھ بلوچستان کو ملانے والی سرحدی پٹی کو مکمل سیل کردیا گیا ہے ، علاوہ ازیں ضلع بھر میں موبائل سروس دوسرے روز بھی معطل رہی جبکہ شہر کے تمام راستوں پر خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، شہر کے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کی اسپتال تک رسائی بھی ممکن نہیں رہی جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس نے جس انداز میں شہر کو سیل کیا ہے اس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہورہا ہے ۔ پولیس کو چاہیے تھاکہ وہ جلوس کے راستوں کو بند کرتے مگر پولیس نے تمام راستوں کو بند کردیا جو غلط ہے ، علاوہ ازیں جیکب آباد میں پولیس اوررینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے ۔ پنوعا قل سے نمائندے کے مطابق پنوعا قل میں نو محرم الحرام کا ما تمی جلوس سید علی نصیر شاہ ،سید مختار رضوی، سید نا صر عباس جہا نیہ ،دیدار شیخ و دیگر کی قیادت میں نکا لا گیا ۔جلو س کے شرکا یا حسینؓ کی صدائیں بلند کر رہے تھے ۔ جلوس امام بارگاہ جہانیہ سے ہو تا ہوا احمد شاہ کے میدان پر اختتام پزیر ہوا ۔سامارو سے نمائندے کے مطابق تحصیل سامارو میں عشرہ محرم الحرام کے سلسلے میں مجالس وماتمی جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے ، عزاداروں کی جانب سے نوحہ خوانی اور ماتم زنی کی جارہی ہے ۔شہدائے کربلا کی یاد میں جگہ جگہ لنگر ونیاز اورشربت تقسیم کیا جارہا ہے ۔ تحصیل سامارو کے مختلف علاقوں روڈسامارو شہر،صالح بھنبھرو اور بودرفارم سمیت گرد و نواح کے علاقوں میں ماتمی جلوس برآمد ہوئے جبکہ مجالس عزا بھی منعقد کی گئیں۔صالح بھنبھرو کی امام بارگاہ میں مجلس ہوئی جس میں علامہ بہادرعلی بدین والے نے نواسہ رسول ﷺ اور دیگر کی قربانیوں پر روشنی ڈالی جبکہ عزاداروں کی جانب سے نوحہ خوانی اور ماتم زنی کی گئی۔مجلس عزا میں قرب وجوار کے مومنین و مختلف امام بارگاہوں سے قافلے بھی شریک ہوئے ۔ اس موقع پر پولیس وسیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ مزید برآں کربلا کے شہدا کی یاد میں جگہ جگہ لنگر ونیاز اور شربت کی سبیلوں کا انتظام کیا گیا ہے ۔ ٹنڈوآدم سے نمائندے کے مطابق ٹنڈوآدم میں آج 21 ذوالجناح اور 13 تعزیوں کے جلوس برآمد ہو ں گے ، سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرتے ہوئے 46 گلیاں اور تین سو دکانیں سیل کردی گئی ہیں ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا گیا ہے جبکہ شہرمیں موٹر سائیکلوں سمیت دیگر گاڑیوں کے چلانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ٹنڈوآدم میں عزداری کا سلسلہ جاری ہے اور آج ٹنڈوآدم تعلقہ میں 21 ذوالجناح کے جلوس نکالے جائیں گے جن میں امام بارگاہ ، بڑا پڑ، ساٹی پڑ، جمن شاہ پڑ ، چاکرانی پڑ ، مگنھار پڑ اوربالا شاہی پڑ سمیت دیگرشامل ہیں جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے حاجی شاہ کے پڑ پر پہنچیں گے جہاں سینہ کوبی ، زنجیر زنی اورشام غریباں منعقد ہو گی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے 13 ذوالجناح کے جلوس نکالے جائیں گے ۔ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور رینجرز کے اہلکارموجود ہیں۔ دو سو پولیس اہلکار جلوس کے روٹ پر تعینات کئے جائیں گے ۔ اس سلسلے میں ایس ایچ او سٹی نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں سی سی ٹی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ جلوس کے روٹ پر 46 گلیوں کو مکمل طور پر 24 گھنٹے کے لئے خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل اور دیگر گاڑیوں کے جلوس کے ساتھ چلنے پر پابندی لگائی گئی ہے اور پیدل چلنے والوں کو جامہ تلاشی کے بعد جلوس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔در یا خان مری سے نمائندے کے مطابق ڈی آئی جی نوابشاہ مظہر نواز شیخ نے پولیس ہیڈکوارٹر نوشہروفیروز کا دورہ کیا اور ضلع بھر کے تمام ڈی ایس پیز کے ساتھ محرم الحرام کی سیکیورٹی سے متعلق میٹنگ کی جس میں ایس ایس پی نوشہرفیروز امجد احمد شیخ کے ساتھ تمام ڈی ایس پیز نے شرکت کی۔اجلاس میں ایس ایس پی نوشہرفیروز نے ڈی آئی جی کو محرم الحرام کے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ ڈی آئی جی نے تمام ڈی ایس پیز کو محرم الحرام میں سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنانے کیلئے ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈی ایس پیز ماتمی جلوسوں کی سخت نگرانی کریں ۔ مجالس پر تعینات تمام جوانوں کی ڈیوٹی کو موثر بنایا جائے ، جلوسوں کے روٹس کو دونوں اطراف سے بند کیا جائے تاکہ عام لوگ ان میں شامل نہ ہو سکیں اور تمام ڈی ایس پیز اپنے اپنے سب ڈویژنوں میں مجالس کی خود نگرانی کریں اورمناسب اہلکار اور اسٹاف مقرر کریں ۔اسکے علاوہ تمام ڈی ایس پیز کرائم کے کنٹرول پر بھی پوری توجہ دیں ۔ روہڑی سے نمائندے کے مطابق تاریخی ضریح اقدس کربلا معلی کا ماتمی جلوس9محرم کی صبح مسجد شاہ وعراق کربلا درگاہ مورشاہ سے برآمد ہوا جو کربلا میدان کربلا روڈ لالا شہزادہ چوک سے ہوتا ہوا رضوانی محلہ منڈو کھبھڑ پہنچا اور ایک دن کی مہمانی کے بعد دوپہر کو دوبارہ برآمد ہوا۔ماتمی جلوس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین نے شرکت کی۔ مختلف انجمنوں نے نوحہ خوانی اور سینہ کو بی کی ۔ضریح اقدس کربلا معلی کو پر سا اور کاندھا دینے کی کوشش میں 350 سے زائد زائرین اور عقیدت مند بے ہوش اور زخمی ہوگئے جنہیں طبی کیمپو ں پر فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی۔ ماتمی جلوس شاہی بازار ،چبوترہ چوک ،درگاہ وار مبارک گیٹ ،ڈھک بازار ،وچھوڑا چوک اور گجوانی محلے سے ہوتا ہوا کربلا میدان مرکزی مسجد حیدر شاہ حقانی کے سامنے رکھ دیاگیا جہاں پر ایک رات قیام کے بعد تاریخ ضریح اقدس کربلا معلی کا تابوت جمعے کی دوپہر کو پھر اٹھایا جائے گا جو جی ٹی روڈ سے ہوتا ہوا روہڑی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک قبرستان میںختم کردیا جائے گا۔ ماتمی جلوس کی نگرانی کے لیے رینجرز پولیس لیڈیز پولیس تعینات تھی جن کی جانب سے زائرین کو تلاشی کے بعد چھوڑا جارہا تھا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں