قومی ادارہ امراض اطفال میں میڈیکل ٹاور تعمیر ہوگا
1کروڑ 70لاکھ ڈالرلاگت آئے گی،فیصل ایدھی نے این آئی سی ایچ کے منصوبے سے آگاہ کیا،ایک کروڑ ڈالرمل چکے ،باقی کیلئے کابینہ سے منظوری لیں گے ،وزیراعلیٰجناح اسپتال،این آئی سی وی ڈی اوراین آئی سی ایچ میں2028تک بستروں کی تعداد5ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے ،بجٹ بڑھ کر 40ارب روپے ہو گیا ،مراد علی شاہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت، فیصل ایدھی کے تعاون سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی لاگت سے ایک میڈیکل ٹاور تعمیر کرے گی۔ اس رقم میں سے 1 کروڑ ڈالر پہلے ہی حاصل کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 70 لاکھ ڈالر صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔انہوں نے یہ اعلان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی)کے نئے ایمرجنسی بلاک کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔ تقریب میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر طاہر صغیر، پیشنٹ ایڈ فاونڈیشن کے مشتاق چھاپڑا، سائبر نائف کے پروفیسر طارق محمود، شبیر دیوان اور دیگر شریک تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ فیصل ایدھی نے انہیں این آئی سی ایچ میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی لاگت سے میڈیکل ٹاور تعمیر کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا جس میں سے 1 کروڑ ڈالر پہلے ہی حاصل ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر یقین دہانی کرائی کہ اس منصوبے کو کابینہ میں پیش کیا جائے گا تاکہ باقی 70 لاکھ ڈالر کی منظوری لی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مخیر حضرات اور صحت کے ماہرین کے ساتھ ہمارے شراکت داری کے ذریعے پیش رفت ہو رہی ہے ۔وزیر اعلیٰ شاہ نے پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اسپتالوں کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایک اہم موقع پر وفاقی حکومت نے اچانک اور بغیر کسی پیشگی مشاورت کے این آئی سی ایچ، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور این آئی سی وی ڈی کی فنڈنگ روک دی۔ اس وقت وزیر خزانہ کی حیثیت سے انہوں نے اور سیکریٹری خزانہ نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا اور 7 جولائی کو سندھ حکومت نے ان تینوں اداروں کیلئے نئے بجٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کے وقت ان اسپتالوں کا مجموعی سالانہ بجٹ صرف 1 ارب 90 کروڑ روپے تھا اور آج یہ بجٹ بڑھ کر 40 ارب روپے ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 12 سال قبل جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ میں مجموعی طور پر 2 ہزار بسترے تھے ، اب یہ تعداد بڑھ کر 4 ہزار ہو گئی ہے اور 2028 تک 5 ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے ۔انہوں نے بتایا کہ امریکا کے سب سے بڑے اسپتال میں 2 ہزار 800 بسترے ہیں جبکہ برطانیہ کے سب سے بڑے اسپتال میں 2 ہزار 200 بسترے ہیں، جس سے سندھ کے اسپتالوں کی عالمی سطح پر حیثیت ظاہر ہوتی ہے ۔