گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، بچوں ، خواتین اور معمرا فراد کی زندگیوں کو شدید خطرات

 گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، بچوں ، خواتین اور معمرا فراد کی زندگیوں کو شدید خطرات

نماز فجر کی ادائیگی کیلئے مساجد جانے والوں کو مشکلات کا سامنا، نئے سال کے ابتدائی چھ دنوں میں سگ گزیدگی کے 1125 واقعات ،شہریوں کا حکام سے حکمت عملی بنانے کامطالبہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کی زندگیوں کو مشکل بنادیا ہے ۔کتے راہ چلتے افراد کے پیچھے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں ، خواتین اور معمرافراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مساجد جاتے ہوئے خوف آتا ہے کہ کہیں کتے حملہ نہ کردیں۔یاد رہے کہ 2026 کے ابتدائی چند روز میں ہی مختلف اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے کیسز کی تعداد 1125 ہوگئی،انڈس اسپتال میں ڈاگ بائٹ کے 300 سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔اسی عرصے میں جناح اسپتال میں 180 اور سول اسپتال میں 305 کیسز رپورٹ ہوئے ، اورنگی ٹاؤن کے قطر اسپتال میں 149، سندھ گورنمنٹ کورنگی اسپتال میں 6، سندھ گورنمنٹ نیو کراچی اسپتال میں 57 جبکہ سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال میں 128 مریضوں سگ گزیدگی کے سبب رپورٹ ہوئے ، اس سال کے ابتدائی چھ دنوں میں سگ گزیدگی کے واقعات کے تعداد 1 ہزار 125 تک جاپہنچی ہے ۔آوارہ کتوں کے حملوں میں ننھے بچے بھی محفوظ نہیں رہے ۔ متعدد بچوں کے چہرے بری طرح بھنبھوڑ دیے گئے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں کا گلیوں میں کھیلنا محال ہو چکا ہے ۔ خواتین خوف کے باعث اکیلے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق آوارہ کتے پرس اور دیگر سامان دیکھ کر پیچھے لگ جاتے ہیں، جبکہ بچے اگر دکان سے کوئی چیز لینے جائیں تو کتے ان کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ سردیوں کے باعث گلیاں سنسان ہوتی ہیں اور اچانک کتے نکل کر بھونکنے لگتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں