ممنوعہ اور مضر صحت 3 ارب روپے سے زائد کی اشیا تلف

ممنوعہ اور مضر صحت 3 ارب روپے سے زائد کی اشیا تلف

تباہ ہونے والی اشیاء میں چھالیہ ، گٹکا، شراب، اجینوموٹو سالٹ، شیشہ سیٹ،تمباکو کی مصنوعات، جانوروں کی ویکسین شامل کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی تقریب کے مہمان خصوصی تھے ،سندھ رینجرز، ایف آئی اے ، سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام شریک

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ)، کراچی نے کلکٹریٹ آف کسٹمز (ایئرپورٹس)، کراچی کے تعاون سے بدھ کو کسٹم ایکٹ 1969 کے تحت ممنوعہ، ایکسپائرڈ اور خطرناک اشیاء کی تلفی کیلئے ایک مشترکہ تقریب کا انعقاد کیا۔یہ تقریب ضبط شدہ ممنوعہ اشیا کو تلف کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی جسے کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ، کراچی اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی میں تعینات پاکستان کسٹمز کے عملے نے قانونی طور پر ضبط کیا تھا اور بعد ازاں تمام مقررہ قانونی ضابطوں کی تکمیل کے بعد اسٹیٹ ویئر ہاؤس میں جمع کرایا گیا تھا۔ ضبط شدہ سامان قانون کے تحت حتمی شکل اختیار کر چکا تھا اور کسٹمز جنرل آرڈر 12/2002 اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے مطابق سختی سے تلف کیا گیا۔

کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی معین الدین احمد وانی تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ کلکٹر کسٹمز (ایئرپورٹس) سعدیہ شیراز، سندھ رینجرز، ایف آئی اے ، سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر افسران بھی تقریب میں شامل تھے ۔تباہ ہونے والی اشیاء میں بنیادی طور پر سپاری/چھالیا، گٹکا، شراب، اجینوموٹو سالٹ، شیشہ سیٹ، شیشہ کے ذائقے ، مختلف برانڈزسگریٹ، تمباکو کی مصنوعات، جانوروں کی ویکسین، ممنوعہ کھلونے ، ہیروئن پاؤڈر، چرس اور دیگر ممنوعہ اشیا شامل ہیں۔ ان اشیاء پر امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت پابندی عائد ہے اور یہ صحت عامہ، حفاظت اور ریاست کے محصولات کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں۔مذکورہ تقریب بدھ کو پلاٹ نمبر 243، دیہہ ناراتھر، گڈاپ ٹاؤن، کراچی میں، شفافیت، تعمیل اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب نگرانی میں کی گئی۔کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کی طرف سے تلف شدہ سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 3.6 ارب روپے ہے ، جبکہ کلکٹریٹ آف کسٹمز (ایئرپورٹس) کراچی سے تلف شدہ سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 32 کروڑ روپے بنتی ہے ۔پاکستان کسٹمز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے زیراہتمام، اسمگلنگ کی روک تھام، کسٹم قوانین کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے ، صحت عامہ کے تحفظ اور قانونی اقدامات کے ذریعے حکومتی محصولات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں