ٹھل :نوجوان لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی ،کھوسہ برادری کا دھرنا
نشے میں دھت ایس ایچ او سمیت7اہلکار آسیہ کو 7دن تک نوچتے رہے ،دادی کا الزامانصاف نہ ملا سندھ ،بلوچستان میں احتجاج کیا جائے گا، کھوسہ برادری کی پریس کانفرنس
ٹھل (نمائندہ دنیا) تھانہ آر ڈی 52میں نوجوان لڑکی آسیہ کھوسو سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا انکشاف، متاثرہ لڑکی کی دادی نے الزام عائد کیا ہے ایس ایچ او اور ہیڈ محرر سمیت 7 پولیس اہلکاروں نے نشے میں دھت ہو کر آسیہ کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، واقعہ کے بعد لڑکی کا رشتہ ٹوٹ گیا، اگر انصاف نہ ملا تو اپنی دونوں پوتیوں کے ساتھ خود کو آگ لگا کر جلادوں گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او ، ہیڈ محرر سمیت 7 اہلکار 7دن تک میری پوتی کے ساتھ زیادتی کرتے رہے، کچھ روز قبل سیاہ کاری کے معاملے پر ٹانوری برادری کی فریاد پر پولیس نے گھر پر چھاپہ مار کر خواتین کو گرفتار کیا تھا۔ دوسری جانب مبینہ زیادتی کے خلاف لڑکی آسیہ کھوسو کے حق میں کھوسہ برادری نے مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ بعد ازاں سندھ اور بلوچستان کی کھوسہ برادری نے پریس کلب کے سامنے ٹھل،کندھکوٹ روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
دھرنے کے باعث سڑک بلاک اور آرڈی 52 تھانے کی پولیس کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔کھوسہ برادری اور وکلا رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں آسیہ کھوسو سے مبینہ اجتماعی زیادتی میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ایڈووکیٹ زبیدہ جکھرانی نے کہا کہ متاثرہ لڑکی سے ملاقات ہوئی ہے اور اس سے اجتماعی زیادتی ہوئی ہے ۔ ورثا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو سندھ اور بلوچستان میں احتجاج کیا جائے گا۔