مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے ، علما
بعض سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ علما کی نجی زندگی، خاندانی وقار اور سفید پوشی پامال کر رہے غیر مصدقہ معلومات پر کسی عزت اچھالنا قانوناً، شرعاً، اخلاقاً کسی طور قبول نہیں،اجلاس
میرپورخاص (بیورو رپورٹ)سوشل میڈیا پر اسلام، علما کرام اور دینی اداروں کے خلاف جاری منظم پروپیگنڈے کے خلاف بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں علما کرام نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے ، خصوصاً پیمرا اور ایف آئی اے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، اشتعال انگیز اور مذہبی منافرت پر مبنی مواد پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور فوری سخت قانونی کارروائی کریں۔ اس فتنہ انگیز مہم میں ملوث نہ صرف مواد پوسٹ کرنے والوں بلکہ ایسے مواد کو پھیلانے والے سوشل میڈیا گروپس اور ان کے ایڈمنز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔ اجلاس میں اس امر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بعض سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ محض وقتی شہرت اور مالی مفاد کے لیے عام و خاص افراد بالخصوص علما کرام کی نجی زندگی، چادر اور چار دیواری، خاندانی وقار اور سفید پوشی کو پامال کر رہے ہیں۔ علما نے کہا کہ ذاتی تجزیات، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر افراد کی عزت اچھالنا قانوناً، شرعاً اور اخلاقاً کسی طور قابل قبول نہیں۔ اجلاس میں بعض میڈیا حلقوں پر بھی تنقید کی گئی جو تحقیق اور تصدیق کے بغیر خبروں کی اشاعت کے ذریعے کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو فروغ دے رہے ہیں ۔