ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ،محمود اچکزئی

 ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ،محمود اچکزئی

اسلام ملک میں قید، تاریخی اکائیاں محدود،قوموں کو وسائل پر حق ہونا چاہیےآئین پر کوئی کمپرومائز قبول نہیں ،ایڈووکیٹ حسیب جمالی،سیمینار سے خطاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت بار روم میں آئین پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں محمود خان اچکزئی و دیگر نے خطاب کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد چھوٹے صوبوں اور قوموں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا، وہ درست نہیں ہے ۔ انہوں نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ خان عبدالصمد اچکزئی اور خان عبدالغفار خان نے ملک کے لیے جدوجہد کی اور ان کو کسی بادشاہت کی خواہش نہیں تھی۔ انہوں نے پاکستان کے قیام کے بعد قائل کیا کہ جمہوری انداز میں ملک چلایا جائے کیونکہ بندوق کے زور پر حکومتیں نہیں چلتی ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اسلام کے قلعہ کے طور پر تو قائم ہے لیکن اسلام ملک میں قید ہے اور تاریخی اکائیوں کو محدود کر دیا گیا۔

انہوں نے زور دیا کہ قوموں کو اپنے وسائل پر حق حاصل ہونا چاہیے اور ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے گل پلازہ واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آگ بجھانے اور ہنگامی اخراج کے راستے موجود ہوتے تو یہ سانحہ نہ ہوتا۔ انہوں نے عدالتوں سے استدعا کی کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ سیمینار میں اسد قیصر نے کہا کہ ملک کو جس طرح چلایا جا رہا ہے ، ممکن نہیں ہے کہ یہ ملک آگے بڑھے ۔ وکلا ایک مضبوط فورس ہیںلیکن اب حکومتی مداخلت کے باعث وکلا تنظیمیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں