پنگریو، گرد و نواح میں آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

پنگریو، گرد و نواح میں آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

مقامی فلور ملرز، چکی مالکان نے 5500 روپے فی من پر فروخت کرنا شروع کر دیاعوامی حلقوں، شہریوں کا حکومتی اقدامات نہ ہونے پر اظہارتشویش، نوٹس کا مطالبہ

 پنگریو (نمائندہ دنیا) پنگریو اور گرد و نواح میں آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ مقامی فلور ملرز اور چکی مالکان نے آٹا 5500 روپے فی من پر فروخت کرنا شروع کر دیا، جو عام شہریوں خصوصاً غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے ۔کسانوں سے فی من صرف 2200 روپے من گندم خریدی گئی، جس سے کسانوں کے فصل کے اخراجات بھی پوری طرح پورے نہیں ہوئے ۔ کسانوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملا، لیکن منافع خور تاجروں نے آٹے کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھا کر عوام کی زندگی مشکل میں ڈال دی ہے۔

شہریوں نے کہا کہ گندم کی سستی خریداری اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب شہریوں اور کسانوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے باعث معاشرتی اور اقتصادی عدم توازن میں اضافہ ہوگا۔عوامی حلقوں اور شہریوں نے حکومتی اقدامات نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ شہریوں کے مطابق اگر قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگے آٹے کی فروخت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کیاجائے گا۔ مقامی تنظیموں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر ذخیرہ اندوز تاجروں کے خلاف کارروائی اور آٹے کی قیمتیں قابو میں لانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ بنیادی ضرورتیں ہر کسی کی پہنچ میں ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں