ضلع جنوبی : فائر سیفٹی نہ ہونے پر 6 زیر تعمیر عمارتیں سربمہر
عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے نہیں بنائے گئے تھے ، مجموعی طور پر48زیر تعمیر عمارتوں کا کام روک دیا گیا ایس بی سی اے کی جانب سے رمپا پلازہ کے متاثرہ اسٹرکچرل ستونوں پر کنکریٹ جیکٹنگ کا باقاعدہ عمل شروع
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی نے سانحہ گل پلازہ کے بعد مختلف علاقوں میں 6 زیر تعمیر عمارتیں سربمہر کر دیں۔ ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کے مطابق سربمہر کی گئی عمارتوں میں فائر فائٹنگ کے آلات نہیں لگائے گئے ۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے نہیں بنائے گئے تھے ، ضلع جنوبی میں مجموعی طور 48 زیر تعمیر عمارتوں کا کام روک دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فیز میں زیر تعمیر عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی نے کہا کہ عمارتوں میں فائر سیفٹی نہ ہونے والی پرانی عمارتوں کا ڈیٹا بھی جمع کیا جا رہا ہے ، جن عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نہیں ہوگا وہاں کارروائی ہوگی۔ علاوہ ازیں رمپا پلازہ میں آتشزدگی کے باعث متاثر ہونے والے اسٹرکچرل ستونوں پر کنکریٹ جیکٹنگ کا باضابطہ تکنیکی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے )کے حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کمزور ہونے والے کالمز کی لوڈ بیئرنگ کیپسٹی کو بحال کرنا ہے ۔ایس بی سی اے حکام کے مطابق جیکٹنگ کے دوران اسٹیل ری اِنفورسمنٹ، شیئر کیپسٹی اور مجموعی اسٹرکچرل اسٹرینتھننگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عمارت کی مضبوطی کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکے ۔ مرمتی کام مستند اور رجسٹرڈ اسٹرکچرل انجینئر کے منظور شدہ ڈیزائن اور سخت نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے ۔حکام کے مطابق کنکریٹ جیکٹنگ مکمل ہونے تک متاثرہ حصے کے استعمال پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ جیکٹنگ کے بعد کالمز کی کمپریشن اور بونڈ اسٹرینتھ کے دوبارہ ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ عمارت کی مضبوطی اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ایس بی سی اے نے واضح کیا ہے کہ اسٹرکچرل اسیسمنٹ اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹنگ کے بعد ہی حتمی سیفٹی کلیئرنس جاری کی جائے گی۔ تمام مرمتی اور تکنیکی کام سندھ بلڈنگ کوڈ اور منظور شدہ انجینئرنگ اسٹینڈرڈز کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔