اندرون سندھ ایک ہفتے کے دوران آٹا 800روپے من مہنگا
سرکاری گوداموں میں گندم دستیابی کے باوجود قیمت 5200روپے ہوگئیآٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے غریب، متوسط طبقہ بری طرح متاثر
جھڈو، نوڈیرو(نمائندگان دنیا)سرکاری گوداموں میں ہزاروں من گندم دستیابی کے باوجود جھڈو، نوڈیرو سمیت سندھ بھر میں آٹے کے نرخوں میں اضافہ ہو گیا، ایک ہفتے کے دوران آٹے کے نرخوں میں 800 روپے فی من کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نرخ 4400 سے بڑھ کر 5200 روپے کی سطح پر پہنچ گئے ۔ ذرائع کے مطابق اس وقت سرکاری پرانی گندم کے نرخ 4 ہزار سے 4 ہزار 2 سو روپے تک بتائے جارہے ہیں، جبکہ 2025 میں گندم کے پیداواری سیزن کے دوران نرخ 2 ہزار سے 22 سو روپے فی من تھے ۔ ذرائع کے مطابق سرکاری گودام سے جھڈو کی آٹا چکیوں کو ماہانہ صرف 20 من گندم 3200 روپے من کے نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے ، جو چکیوں کی موجودہ ضرورت کے لیے ناکافی ہے اور سرکاری گودام سے چکیوں کو گندم کے کم کوٹے کی وجہ سے آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، فلور ملز کو آٹا چکیوں سے کئی گنا زیادہ گندم فراہم کی جا رہی ہے ، چکی مالکان کے مطابق انہیں سرکاری گندم بہت کم مل رہی ہے ، جو عوام کی آٹے کی ضرورت سے بہت کم ہے ۔ آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے غریب اور متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بنیادی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ظلم کے مترادف ہے۔